کوئٹہ: وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6106ویں روز میں داخل، سیف اللہ کی بازیابی کا مطالبہ

1

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6106ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔

احتجاجی کیمپ میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جہاں لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔

اس موقع پر 12 مارچ کی رات تقریباً 2 بجے منوجان روڈ، کوئٹہ سے سی ٹی ڈی اور اداروں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار بننے والے نوجوان سیف اللہ ولد عطاءاللہ کے اہلِ خانہ نے بھی احتجاجی کیمپ میں شرکت کی۔

اہلِ خانہ کے مطابق سیف اللہ کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ایوب اسٹیڈیم میں نائٹ فٹبال میچ کھیلنے کے بعد اپنے دوستوں کے ہمراہ گھر واپس آ رہے تھے۔ واقعے کو کئی دن گزر جانے کے باوجود تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی، اور نہ ہی متعلقہ پولیس تھانہ سیف اللہ کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر درج کر رہا ہے، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی کرب اور بے چینی کا شکار ہے۔

اہلِ خانہ نے احتجاجی کیمپ میں سیف اللہ کی جبری گمشدگی سے متعلق تمام تفصیلات وی بی ایم پی کے پاس جمع کرا دیں اور تنظیم سے انصاف کی فراہمی کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے سیف اللہ کے لواحقین کو یقین دہانی کرائی کہ سیف اللہ کے کیس کو تنظیمی سطح پر لاپتہ افراد سے متعلق قائم کمیشن اور صوبائی حکومت کو فراہم کیا جائے گا، اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔

نصراللہ بلوچ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ سیف اللہ سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے اور ان کے اہلِ خانہ کو درپیش ذہنی اذیت کا خاتمہ کیا جائے