انسدادِ دہشتگردی عدالت کوئٹہ نے ایک مقدمے میں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ، گلزار دوست بلوچ اور ڈاکٹر شلی بلوچ سمیت 12 افراد کو اشتہاری قرار دے دیا۔
عدالت کی جانب سے جاری کردہ اشتہار کے مطابق ملزمان کو مقدمہ نمبر 96/25 اور ایف آئی آر نمبر 67/2025 کے تحت طلب کیا گیا تھا۔ عدالت نے تمام نامزد افراد کو 7 مارچ کو ہر صورت عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔
عدالتی اشتہار میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے، جن میں دفعہ 153 اے، 186، 436، 341، 353، 427، 505 اور 324 شامل ہیں، جبکہ انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 7 اے بھی مقدمے کا حصہ ہے۔
عدالت نے ہدایت کی ہے کہ تمام نامزد افراد مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش ہو کر اپنا مؤقف پیش کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
فہرست میں شامل ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کو بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی مرکزی رکن بتایا جاتا ہے، جبکہ گلزار دوست بلوچ تربت سول سوسائٹی کے کنوینر ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر شلی بلوچ بلوچ ویمن فورم کی مرکزی آرگنائزر کے طور پر جانی جاتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اشتہار میں نامزد دیگر افراد کو بھی سیاسی اور سماجی کارکنان قرار دیا جا رہا ہے، جنہیں عدالت کی جانب سے پیش ہو کر اپنا مؤقف دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔













































