بلوچ یکجہتی کمیٹی نے پنجگور کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والے متعدد ماروائے عدالت قتل کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بلوچستان میں جاری منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بلوچ نسل کشی کا تسلسل قرار دیا ہے۔
بی وائی سی کے جاری کردہ مرکزی بیان کے مطابق 6 مارچ 2026 کو پنجگور کے علاقے کوہ سبز، میں پاکستانی فورسز اہلکاروں کے ہاتھوں حمّل حسنی ولدصمد حسنی کو قتل کر دیا گیا۔ حمّل حسنی پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل تھے اور غیر مسلح تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں بلوچستان میں ایک نوجوان بلوچ ہونا ہی بعض اوقات موت کی سزا بن جاتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حمّل حسنی کا قتل اس طرز عمل کا تسلسل ہے جسے انسانی حقوق کے کارکن گزشتہ دو دہائیوں سے دستاویزی شکل دیتے آ رہے ہیں۔ اس طریقہ کار کے تحت بلوچ شہریوں کو گھروں، چیک پوسٹوں یا دیگر مقامات سے حراست میں لیا جاتا ہے، انہیں دور دراز علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے اور بعد ازاں ان کی لاشیں اہل خانہ کے حوالے کر دی جاتی ہیں۔ اکثر حکام انہیں مبینہ مقابلوں میں مارا گیا قرار دیتے ہیں یا پھر کسی بھی قسم کی وضاحت دینے سے گریز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پنجگور کی سڑکیں خوف کی علامت بن چکی ہیں جہاں طلبہ، اساتذہ، وکلاء اور مزدوروں کو روکا جاتا ہے، پوچھ گچھ کی جاتی ہے اور بعض اوقات وہ دوبارہ زندہ واپس نہیں آتے۔ یہ صورتحال محض بدامنی نہیں بلکہ ایک منظم نظام کا حصہ ہے جس کے ذریعے بلوچ سماج کو خوف اور خاموشی میں دھکیلا جا رہا ہے۔
بیان میں پاکستان پر بلوچستان کے گرد “خاموشی کی دیوار” کھڑی کرنے کا الزام عائد کیا گیا اور کہا گیا کہ بین الاقوامی صحافیوں کو بلوچستان تک رسائی نہیں دی جاتی جبکہ مقامی صحافیوں کو بھی ان واقعات کی رپورٹنگ کرنے پر جبری گمشدگی، تشدد اور قتل جیسے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ بی وائی سی کے مطابق بلوچستان صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے۔
بیان میں پنجگور کے علاقے پروم کے میں 5 مارچ 2026 کو پیش آنے والے دیگر واقعات کا بھی ذکر کیا گیا جن میں تین نوجوانوں کو قتل کیا گیا۔ ان میں زاکر بلوچ ولد عبدین، عمر جان اور نیاز ولد حاجی اللہ بخش شامل ہیں۔ تینوں کا تعلق سبزل بازار، پروم سے تھا اور وہ محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان تھے جو ڈرائیونگ کے ذریعے اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے تھے۔
بیان کے مطابق زاکر بلوچ کو کیلری، پروم میں مسلح افراد کی فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں جانبر نہ ہو سکے۔ اسی طرح عمر جان اور 24 سالہ نیاز کو بھی اسی علاقے میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ ان واقعات نے علاقے میں خوف و ہراس کو مزید بڑھا دیا ہے اور متاثرہ خاندان شدید غم و صدمے سے دوچار ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، جعلی مقابلوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں جن کا نشانہ بالخصوص بلوچ نوجوان بن رہے ہیں۔ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں بھی بلوچ خاندانوں کو اپنے نوجوان بیٹوں کی لاشیں موصول ہو رہی ہیں جو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں، خصوصاً شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) کے آرٹیکل 6 کے تحت ہر انسان کے حقِ حیات کی ضمانت دی گئی ہے اور کسی بھی شخص کو من مانی طور پر زندگی سے محروم کرنا سختی سے ممنوع ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور پاکستان پر دباؤ ڈالیں کہ ان واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔



















































