پاکستان میں امریکہ، اسرائیل مخالف مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 25 تک پہنچ گئی

12

ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں ہونے والے پُرتشدد احتجاج کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد پیر تک کم از کم 25 ہو گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اے ایف پی کی جمع کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔

پاکستان کے متعدد بڑے شہروں میں مظاہرے پھوٹ پڑے، جن میں کراچی بھی شامل ہے، جہاں بعض مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی جس کے بعد مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے مابین جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

کراچی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ کم از کم 10 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوئے۔ اے ایف پی کے مطابق ایک ہسپتال ریکارڈ میں نو افراد کی موت گولی لگنے سے ہوئی۔

اُدھر گلگت بلتستان میں حکام نے بتایا کہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق گلگت میں سات افراد جبکہ اسکردو میں چھ افراد مارے گئے۔

گلگت اور اسکردو میں رات گئے کرفیو نافذ کر دیا گیا، جو بدھ تک برقرار رہے گا جبکہ فوج کو بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں بھی ہزاروں افراد نے احتجاج کیا، جن میں سے بہت سے لوگ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے۔ اس دوران دو افراد ہلاک ہوئے۔

اے ایف پی کے مطابق اتوار کی دوپہر پولیس نے سفارتی علاقے کے قریب، جہاں امریکی سفارت خانہ واقع ہے، مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔