مشکے سے خاران تک – جب مٹی نے بغاوت کو جنم دیا – عائشہ بلوچ

31

مشکے سے خاران تک – جب مٹی نے بغاوت کو جنم دیا

تحریر: عائشہ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخ ہمیں بار بار ایک ہی سبق دیتی ہے کہ انقلاب ہمیشہ درسگاہوں میں جنم نہیں لیتا بلکہ محروم بستیوں میں پروان چڑھتا ہے۔ وہ ان لوگوں کے دلوں میں اُگتا ہے جن کے پاس ڈگریاں کم اور دُکھ زیادہ ہوتے ہیں۔ رسمی تعلیم کی کمی انہیں کمزور نہیں بناتی بلکہ حالات انہیں ایسی آگ میں ڈھال دیتے ہیں جہاں سے شعور پیدا ہوتا ہے۔ یہی پس منظر افضل کی زندگی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔

مشکے کی سنگلاخ زمین پر پیدا ہونے والا افضل بھی انہی لوگوں میں سے تھا۔ وہ کسی بڑی یونیورسٹی کا طالبعلم نہیں تھا اور نہ ہی سیاسی فلسفوں کا ماہر۔ اس کی تعلیم اس کا ماحول تھا۔ گاؤں کی خاموشی اس کی درسگاہ تھی۔ خوف زدہ چہرے اس کی کتاب تھے۔ ماؤں کی دعائیں اور نوجوانوں کی بے چینی اس کا نصاب تھا۔ اس نے سیکھا کہ جب شناخت زخمی ہو جائے تو سوال جنم لیتے ہیں اور جب سوال دبائے جائیں تو انسان کے اندر بیداری پیدا ہوتی ہے۔

افضل کی گرفتاری اور قید اس کی زندگی کا فیصلہ کن مرحلہ تھا۔ اذیتوں نے اس کے جسم کو زخمی کیا مگر اس کے عزم کو کمزور نہ کر سکیں۔ وہ کہا کرتا تھا کہ جسم کو قید کیا جا سکتا ہے مگر فکر کو نہیں۔ رہائی کے بعد اسے معاشرتی فاصلے اور شکوک کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس نے خاموشی قبول نہ کی۔ اس نے سوال کو زندہ رکھا اور اسی سوال نے اسے تاریخ کے ان کرداروں کی صف میں لا کھڑا کیا جنہوں نے رسمی تعلیم کے بغیر بھی بڑا اثر چھوڑا۔

توسین لوورچر غلامی میں پیدا ہوئے۔ تعلیم محدود تھی، مگر حالات نے انہیں قیادت سکھا دی۔ انہوں نے ہیٹی میں آزادی کی تحریک کی قیادت کی اور ثابت کیا کہ شعور کسی ڈگری کا محتاج نہیں ہوتا۔

اسی طرح ایمیلیانو زاپاتا ایک کسان تھے۔ کھیت ان کی درسگاہ تھے۔ انہوں نے زمین اور انصاف کی بات کی اور اپنے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ ان کا علم زمینی تھا اور اسی نے انہیں طاقت دی۔

پھر ہیریئٹ ٹبمین غلامی میں پیدا ہوئیں اور رسمی تعلیم سے محروم رہیں، مگر انہوں نے آزادی کا راستہ دکھایا اور جرات کی علامت بن گئیں۔

یہ تمام کردار اور افضل کی زندگی ایک ہی زنجیر کی کڑیاں محسوس ہوتے ہیں۔ سب نے محرومی کو کمزوری نہیں بننے دیا بلکہ اسے بیداری میں بدلا۔ سب نے خوف کے ماحول میں سوال اٹھایا۔ سب نے ثابت کیا کہ اصل انقلاب ذہن کی آزادی کا نام ہے۔

خاران کی مٹی میں افضل کی زندگی کا باب ضرور بند ہوا، مگر اس کی داستان اسی تاریخی تسلسل کا حصہ بن گئی جس میں وہ لوگ شامل ہیں جو کم تعلیم یافتہ تھے مگر بلند شعور رکھتے تھے۔ اس کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ جب انسان اپنے اندر کے خوف کو شکست دے دیتا ہے تو وہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔

یوں افضل کی کہانی محض ایک فرد کی کہانی نہیں رہتی بلکہ مٹی سے اُٹھنے والی اس بیداری کی علامت بن جاتی ہے جو ہر دور میں نئے ناموں کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ تعلیم کم ہو سکتی ہے، مگر شعور بلند ہو تو تاریخ اپنا راستہ بدل دیتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔