مزاحمت نے ہمیں چنا
تحریر: بیبرگ بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچستان ایک ایسا نام ہے جو دو بالکل مختلف دنیاؤں کو ایک ہی لفظ میں سمیٹ لیتا ہے۔ استعماری نظروں کے لیے یہ سرزمین صرف ایک نقشہ ہے۔ زیرِ زمین دولت سے بھرا، معدنیات سے لدا، اور جغرافیائی اہمیت سے مالا مال۔ یہ قوتیں بلوچستان کو اپنی طاقت کا ایندھن سمجھتی ہیں، ایک ایسی کان جسے کھودتے رہو اور جن کی روحیں اس زمین پر آباد ہیں، انہیں بھول جاؤ لیکن جو اس سرزمین کے باسی ہیں، ان کے لیے بلوچستان کا نام کچھ اور معنی رکھتا ہے۔ ان کے لیے یہ نام مسخ شدہ لاشوں کی تصویر ہے، لاپتہ افراد کی فہرستیں ہیں، بے روزگاری کا درد ہے، اور ایک ایسا نظام ہے جو انہیں ان کی ہی زمین پر اجنبی ثابت کرتا رہتا ہے۔ جب بھی کوئی بلوچ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت کرتا ہے تو ریاست کے پاس اسے خاموش کرنے کے کئی ہتھیار ہیں، لاپتہ کر دو، ماورائے عدالت قتل کر دو، یا غدار کا لیبل لگا کر سلاخوں کے پیچھے پھینک دو۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ بلوچستان کی روز کی کہانی ہے۔ اور آج میں اس کہانی میں ایک اور باب کا اضافہ کرنے جا رہا ہوں، اپنا باب۔
رمضان کا مہینہ تھا، ۲۰ مارچ ۲۰۲۵ کی سحری کا وقت تھا اور گھر میں ایک خاص قسم کی خوشی چھائی ہوئی تھی۔ صبح نو بجے میرے والد اور ہمشیرہ عمرے کی سعادت حاصل کر کے کوئٹہ واپس آ رہے تھے۔ گھر والوں کے ساتھ باتیں ہو رہی تھیں، انتظار میں ایک پُرجوش بے تابی تھی۔ سحری کے بعد میں نے نماز کی نیت باندھی ہی تھی کہ مین گیٹ پر بے رحمانہ دستک پڑی۔ اس سے پہلے کہ کوئی دروازہ کھولتا، دروازہ توڑ دیا گیا۔ سی ٹی ڈی، پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار ہجوم کی صورت گھر میں داخل ہو گئے اور تلاشی لینے لگے۔ میں نے نماز ادھوری چھوڑی اور جلدی سے اپنی وہیل چیئر پر بیٹھ کر کمرے سے باہر نکلا۔ انہوں نے مجھے اور میرے چھوٹے بھائی کو فوری طور پر گرفتار کر لیا۔ میں بار بار پوچھتا رہا کیوں؟ کس جرم میں؟ لیکن جواب نہ ملا، صرف خاموشی اور وردیوں کا تکبر۔ جب گھر والوں نے احتجاج کیا تو انہیں تشدد سے خاموش کرایا گیا۔ نہ بلوچی روایت کا احترام، نہ اسلامی اقدار کا لحاظ نہ عورتوں کا، نہ بچوں کا، نہ بزرگوں کا۔ چادر اور چاردیواری کا تقدس جسے بلوچ ثقافت کی روح کہا جاتا ہے، ایک بار پھر پیروں تلے روند دیا گیا۔
مجھے اور میرے بھائی کو کوئٹہ کینٹ پولیس اسٹیشن لے جایا گیا جہاں ہم صبح گیارہ بجے تک رہے۔ ریڑھ کی ہڈی یعنی حرام مغز کے زخم کے باعث میرا پیشاب میرے اختیار میں نہیں رہتا۔ اچانک گرفتاری کی وجہ سے میں شدید تکلیف میں تھا۔ پولیس اہلکاروں سے پیمپر لانے کی درخواست کی مگر کوئی جواب نہ آیا اور مجبوراً کمرے میں پڑی ایک پلاسٹک تھیلی سے گزارا کرنا پڑا۔ وہاں سے میرے بھائی کو ہودہ جیل بھیج دیا گیا اور مجھے بجلی روڈ تھانے منتقل کر دیا گیا جہاں کچھ قیدی پہلے سے موجود تھے۔ تین دن وہاں گزرنے کے بعد مجھے ایک بار پھر کینٹ لایا گیا اور اس بار ایک کال کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا۔ وہ تین دن شاید میری زندگی کے مشکل ترین لمحے تھے۔ تین دن تک بھوکا، پیاسا اور مکمل تنہائی میں رکھا گیا۔ بھوک اور پیاس کو انسان کسی نہ کسی طرح برداشت کر لیتا ہے، لیکن وہ بے بسی جو روح کو توڑ دیتی ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ جب آپ اتنے مجبور ہوں کہ پیشاب اور پاخانہ اسی بستر میں کریں اور اسی میں سوئیں تو کوئی جانور بھی ایسی قید قبول نہ کرے۔ لیکن ایک بلوچ کو، ایک غلام کو، اس سے بھی بدتر حالات پر خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ کال کوٹھڑی میں وقت جیسے منجمد ہو جاتا ہے۔ اندھیرا اتنا گہرا ہے کہ دن اور رات کی تمیز مٹ جاتی ہے صرف ایک ایسی رات باقی رہتی ہے جو ختم نہیں ہوتی۔ آپ کو لگتا ہے صدیاں بیت گئیں، مگر وہ بس ایک کالی رات ہوتی ہے لمبی، بے رحم اور خاموش۔
ہم نے پاکستانی ریاست کے مظالم بہت سنے تھے-کتابوں میں پڑھے، لوگوں کی زبانی سنے، سوشل میڈیا پر دیکھے لیکن جب میں خود ہودہ جیل کے اندر گیا تو سننے اور دیکھنے میں جو فرق ہوتا ہے، وہ اس روز میری روح کی گہرائیوں تک اتر گیا۔ قیدیوں کی قطاروں میں ایک طرف ستر سال سے زیادہ عمر کے بزرگ تھے جن کے جھریوں بھرے چہروں پر زندگی کی تھکاوٹ اور ریاستی بے رحمی دونوں ایک ساتھ نقش تھے، اور دوسری طرف اٹھارہ سال سے کم عمر کے وہ نوجوان لڑکے تھے جن کی آنکھوں میں خواب ابھی بجھے نہیں تھے لیکن ہاتھوں میں زنجیریں پڑ چکی تھیں۔ یہ کوئی مجرم نہیں تھے ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنے لوگوں کی آواز اٹھائی تھی، اپنے حق کی بات کی تھی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف اس کریک ڈاؤن نے صرف ایک تنظیم کو کچلنے کی کوشش نہیں کی، اس نے پوری بلوچ سیاسی سوچ کو خاموش کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ ریاست کا پیغام بالکل صاف اور بے پردہ تھا کہ بولو گے تو رعایت نہیں بوڑھے ہو یا جوان، عورت ہو یا مرد، استاد ہو یا طالب علم۔ جب ریاست ستر سالہ بزرگ کو بغیر کسی جرم کے قید کر سکتی ہے اور سترہ سالہ لڑکے کو سلاخوں کے پیچھے بھیجنے میں شرم محسوس نہیں کرتی تو یہ قانونی کارروائی نہیں رہتی یہ خوف کی سیاست بن جاتی ہے، یہ ایک پوری قوم کے وجود پر سوالیہ نشان لگانے کی کوشش بن جاتی ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جب بلوچ نوجوان کے ذہن میں ایک بہت بڑا سوال جنم لیتا ہے، کیا اس ریاست میں اس کا وجود واقعی ممکن ہے؟ کیا اس کی زبان، اس کی شناخت، اس کی سیاسی سوچ یہ سب مٹا دینا ریاست کا اصل ہدف ہے؟ یہ کریک ڈاؤن انہیں خاموش نہیں کر رہا بلکہ یہ انہیں اپنے وجود کے بارے میں ازسرنو سوچنے پر مجبور کر رہا ہے، اور یہ سوچ کسی بھی جیل کی دیوار سے زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوتی ہے۔
ہاں، یہ سچ ہے کہ اس کریک ڈاؤن نے جزوی طور پر لوگوں کو خاموش کیا ہے۔ لوگ ڈرے ہیں، گھروں میں سمٹ گئے ہیں، آوازیں دھیمی ہو گئی ہیں۔ لیکن یہ خاموشی نظریے کی موت نہیں یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی ریاست اپنے ہی شہریوں کو بغیر جرم، بغیر مقدمے اور بغیر انصاف کے قید کرتی ہے تو وہ دراصل اپنی اخلاقی شکست کا اعلان خود کرتی ہے۔ جب ستر سالہ بزرگ کو جیل بھیجا جاتا ہے تو اس کے گھر میں بیٹھا پوتا خاموش نہیں رہتا وہ سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ جب پندرہ سالہ لڑکے کو گرفتار کیا جاتا ہے تو اس کی ماں کے آنسو کسی نہ کسی دن ایک مضبوط آواز ضرور بنتے ہیں۔ ریاست جسموں کو قید کر سکتی ہے لیکن سوال کو نہیں۔ یہ دیواریں شاید ابھی خاموش کھڑی ہیں، لیکن ان کے پیچھے جو کہانیاں دفن ہیں وہ ایک دن ضرور بولیں گی۔ ہودہ جیل میں جو منظر تھا وہ محض ایک جیل کا منظر نہیں تھا وہ اس ریاست کا اصل چہرہ تھا جو سیاسی کارکنوں کو خاموش کرنے کے لیے ہر حد پار کرنے کو تیار ہے۔ اور یہ چہرہ جتنا بھی چھپانے کی کوشش کی جائے گواہ موجود ہیں، آنکھیں موجود ہیں، ضمیر موجود ہے۔ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو تاریخ میں اس کا انجام ہمیشہ شکست رہا ہے۔ اور اس بات کے گواہ موجود ہیں، یہ سوال موجود ہے، وہ سوال جسے کوئی جیل، کوئی کال کوٹھڑی اور کوئی ریاست کبھی قید نہیں کر سکتی۔
کچھ لوگ اب بھی شاید اسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ جیل ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ،سبغت اللہ بلوچ، بیبو بلوچ اور گل زادی بلوچ کو کمزور کر دی گئی اور وہ اپنے حقوق سے دستبردار ہو جائیں گے تو وہ احمقوں کی دنیا میں جی رہے ہیں۔ آج سلاخوں کے پیچھے اپنے لوگوں سے دور اپنے فیملی، گھر اور دوستوں سے دور ہوے 1 سال پورا ہونے کو ہے، یہ سال تکلیفوں سے بھری پڑی ہے اور اگے اور بھی ہوں گے لیکن مزاحمت کا راستہ انسان کو دن بہ دن مضبوط بناتا ہے،پہلے مجھے لگتا تھا کہ ہم نے مزاحمت کا راستہ چنا ہے لیکن اس ایک سال کے قید نے مجھے سکھایا کہ مزاحمت نے ہمیں چنا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































