مزاحمتِ سمّی (مریم بزدار) – حانی اسلم بلوچ

0

مزاحمتِ سمّی (مریم بزدار)

تحریر: حانی اسلم بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

سمی ایک مہربان دوست تھی، اس کے بارے میں لکھتے ہوئے آنکھیں نم ہو رہی ہیں لیکن دل میں حوصلے اور فخر کا ایک احساس بھی ابھر رہا ہے۔ میں نے جب پہلی بار سمی کو دیکھا تو اس وقت ہماری اتنی بات چیت نہیں ہوتی تھی، وہ بہت خاموش مزاج تھی، بہت کم بات کرتی تھی۔ آہستہ آہستہ ہماری بات ہونے لگی اور ہم دوست بن گئے۔ سمی کے ساتھ وقت اتنی تیزی سے گزرا کہ پتہ بھی نہیں چلا۔

سمی کی وہ حوصلہ مند باتیں، اس کا ہنسنا مسکرانا، اس کا اپنی قوم سے محبت کا ہر وقت اظہار، شہیدوں کے مثالیں دینا، ہمیں سمجھانا، ہر مشکل کو مسکرا کر گزارنا، برداشت اور صبر سے کام لینا ہمارے لیے مثال ہے۔ کسی بھی کام میں جب سمی کی کسی کو ضرورت ہوتی، وہ حاضر ہوتی تھی۔ ہر کام کو وہ قوم کی خدمت سمجھتی تھی۔ میرے لیے وہ بہت خاص تھی، اس کی باتیں مجھے بہت شدت سے یاد آتی ہیں اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ دیر رات تک جاگنا، ہنسی مذاق، ایک دوسرے کو تنگ کرنا، آج ایسے لگتا ہے جیسے کوئی خواب ہو۔ پچھلا رمضان ایک ساتھ گزرا، سحری تک جاگنا، سحری ایک ساتھ بنانا، اس رمضان میں سمی کی کمی بہت محسوس ہو رہی ہے۔

مریم بزدار عرف سمی نے جو فیصلہ لیا، جس مقصد کے لیے قربان ہوئی، وہ ہمارے لیے قابلِ فخر اور مشعلِ راہ ہے۔ اس کی بہادری، ہمت، حوصلہ تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ جس دن میرل (رشید بزدار) کے شہادت کی خبر آئی تھی، اس دن صبح ہم بہت مذاق وغیرہ کر رہے تھے اور اس دن سمی ہم سے میرل کے بارے میں باتیں کر رہی تھی۔ جب ہمیں پتہ چلا تو ہم حیران تھے کہ سمی کو جب معلوم ہوگا تو وہ کس حال میں ہوگی لیکن وہ تو ایک باہمت لڑکی تھی۔ جب اسے پتہ چلا تو وہ بالکل بھی ٹوٹی نہیں، وہ حوصلہ مند تھی، اسے دیکھ کر ہمیں حوصلہ ملا۔ وہ فیصلہ لے چکے تھیں اور وہ شہید استاد اسلم کے قول “ہم مرگِ شہادت یا آزاد وطن فلسفے” پر عمل پیرا تھیں۔

وہ اکثر ہم سے میرل کی باتیں کرتی تھی، حوصلہ مند ہو کر اسے یاد کرتی تھی۔ کچھ وقت ایسے ہی گزرا، ہم روزمرہ کی طرح اپنے کاموں میں مشغول تھے کہ سمی نے کہا: حانی، میں جا رہی ہوں۔ پہلے مجھے لگا شاید مذاق کر رہی ہے، پر وہ اپنے جانے کی تیاری میں لگ گئی، وہ بہت زیادہ خوش تھی۔ میں نے پوچھا کہاں جا رہی ہو، واپس کب آؤگی؟ تو اس نے تنظیمی رازداری پر عمل کرتے ہوئے جواب میں اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ فلاں علاقے جارہی ہوں اور پھر صبح کے وقت وہ روانہ ہوگئی۔ کچھ وقت وہ میرے ساتھ رابطے میں تھی، پھر اس حال میں بھی رابطہ بند ہوگیا۔

31 جنوری صبح کا وقت، آپریشن ہیروف ٹو کا آغاز ہوا۔ اس جنگ نے جو حوصلہ، ہمت دکھائی، وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔ جہاں ہماری بھائیوں کے ساتھ ہماری بہادر بہنیں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی تھیں، دشمن کے کیمپوں کے اندر گھس کر دشمن کا انتظار کر رہی تھیں، ہمارے بزرگ اس جنگ میں شامل تھیں، کیا ہی حوصلہ مند دن تھا۔

اسی طرح سمی کی فدائی کی خبر ملی، اسے سنتے ہی آنکھیں نم ہوگئیں، اس کی وہ خوبصورت ہنسی میرے آنکھوں کے سامنے بار بار آ رہی تھی۔ اس دن سمی بہت شدت سے یاد آئی۔ اس کا چہروں آنکھوں کے سامنے بار بار آتا جس میں وہ بہت خوش دکھائی دیتی جیسے وہ نوشکی جاکر میرل سے مل چکی ہے، جیسے وہ صبر آزما کئی مہینے اور دن گزارنے کے بعد اس دن تک پہنچ گئی ہو اور فرض ادا کرچکی ہو۔

شہیدوں کے لیے روتے نہیں، ان کے جانے کا افسوس نہیں کرتے بلکہ ان کی شہادت اور مقصد ہمیں بہت کچھ سکھا جاتی ہیں۔ ہمارا فرض ہے ان کے مقصد کو آگے لے کر جائیں، تب ہی ہم ان کی دی ہوئی قربانی اور خون کے ساتھ برابر انصاف کر پائیں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔