غزوۂ تبوک میں پنہاں تربیتی پہلوؤں پر ایک نظر (آخری حصہ) – مولوی محمد طیب

1

غزوۂ تبوک میں پنہاں تربیتی پہلوؤں پر ایک نظر!

تحریر: مولوی محمد طیب

دی بلوچستان پوسٹ

 

12:کٹھن و مشکل مراحل طے کرتے وقت اکابر کے احکامات کی مخالفت سے احتراز

دورانِ سفر پانی کی قلت و سخت گرمی کے باعث پیاس سے بُرا حال تھا، اثناء سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل ہم مقامِ تبوک عین زوال کے وقت پہنچیں گے، لیکن یاد رکھنا کہ مجھ سے سبقت کرکے چشمہ سے کوئی شخص پانی استعمال نہ کرے، صحابہؓ نے آپ کی بات پر لبیک کہا، لیکن چند منافقین نے سبقت کرکے پانی استعمال کیا، جس سے پانی میں گدلا پن آنے لگا، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی سے ہاتھ منہ دھوکر دوبارہ اسی میں انڈیل دیا، اللہ کی شان اس میں معجزاتی طور پر خوب پانی بھر آیا۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی:۵/۲۳۶)13: مخلص دوست کبھی پیٹھ نہیں پھیرتا 

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی سواری لاغر وکمزوری کی بنا پر لشکر سے کوسوں دور رہ گئی، جس کو دیکھ کر آپؓ نے اپنا سامان کمر پر لادکر پاپیادہ لشکر کی طرف بڑھنے کا فیصلہ کیا، دوسری جانب حضرات صحابہؓ نے آپ کی عدم موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ چھوڑدو، اگر اس میں خیر ہوگی تو اللہ اسے تم سے ملادیں گے، وگرنہ وہ شامل نہ ہوسکے گا۔‘‘ ابھی یہ جملہ مکمل ہی ہوا تھا کہ اچانک دور سے ایک پاپیادہ کمر پر سامان لادے شخص کو آتا دیکھا گیا ، جس پر بےساختہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر جاری ہوا ’’کُن أباذر‘‘ (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ:۴/۸۳) (اے اللہ! یہ ابوذر کا آنا مقدر فرمادے)، اللہ کی شان وہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ہی تھے، جنہوں نے اپنی رفاقتِ کاملہ کا عملی ثبوت پیش کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تنہا اس حال میں آتا دیکھ کر فرمایا : ’’رحم اللہ أبا ذر، یمشي وحدہٗ، یموت وحدہٗ، ویبعث وحدہٗ۔‘‘ ( اللہ رحم فرمائے ابوذر پر، تنِ تنہا سفر کرتا ہے، سب سے دور علیحدہ موت کی آغوش میں سلایا جائے گا، اورآخر میں اکیلا قبر سے اُٹھایا جائے گا) چنانچہ ایسا ہی ہوا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مشورہ پر مقامِ ربذہ کو اہلیہ وخادم سمیت اپنا مسکن وموطن بنایا، اور عراق سے واپسی پر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اس مقام سے گزر ہوا، آپ کی نعش کو اس طرح تنہا دیکھ کر نمازِ جنازہ پڑھائی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی کو یاد کرکے آبدیدہ ہوگئے۔ (الکامل:۲/۱۴۹) 

14: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بحیثیت صلح پسند حاکم کا کردار

مقامِ تبوک پر دورانِ قیام مختلف قبائل کے زعماءِ یہود نے خدمتِ نبوی میں حاضر ہوکر جزیہ قبول کرنے کی درخواست پیش کی، جن میں ایلہ مقام کے سربراہ یوحنّا بن روبہ کا نام سرِفہرست ملتا ہے، آپ نے ان تمام کی درخواست کو صلح وامن پسندی کے قیام کی خاطر قبول کیا۔نیز حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دومۃ الجندل کے حاکم اُکیدر نصرانی کی گرفتاری کا حکم دیا، اور پیش گوئی فرمائی کہ وہ جانور کا شکار کرتے ہوئے شکار ہوگا، چنانچہ یوں ہی ہوا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس کی تلاش میں روانہ ہوئے، تو دوسری طرف اُکیدر فلک بوس محل کی چھت پر اہلیہ سمیت شہر کے اطراف و اکناف کا نظارہ کرنے میں مصروف تھا کہ اچانک اس کی نگاہ نیل گائے پر پڑی، شکار کی محبت وفریفتگی کا یہ عالم تھا کہ خود پر قابو نہ پاسکا، اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ گرفتار ہوا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے جانے کے بعد ادائیگیِ جزیہ پر مصالحت سمیت لوٹا۔ (سیرتِ ابن ہشام:۲/۵۲۷) 

15: دنیا کی رذالت وعدمِ ثباتی کا ہر دم استحضار

جب اُکیدر نصرانی آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو بعض صحابہؓ نے اس کے قباء کی حسن رعنائی وملائمت کو دیکھا تو از راہِ تعجب اس کو چھونے لگے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خطاب کرکے پوری اُمت کے رُخ کو درست کیا، اور فرمایا کہ: تم اس پر حیرت وفریفتگی میں مبتلا ہو، بخدا جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو پیش کیا جانے والا رومال اس سے بھی کئی گنا زیادہ خوبصورت وملائم ہے۔(صحیح مسلم، رقم:۲۴۸۹) 

درحقیقت یہی فرق ہوتا ہے ایک نبی اور عام لیڈر کے مابین، عین اس وقت جب کہ معرکہ کارزار گرم ہو، تیروں کا مینہ برس رہا ہو، ہاتھ پاؤں اس طرح کٹ کٹ کر گررہے ہوں جس طرح موسمِ خزاں میں پتے جھڑتے ہیں، دشمن کی فوجیں سیلاب کی طرح بڑھی آرہی ہوں، عین اس وقت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی تربیت کا کوئی معمولی پہلو بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

16: رفقاء کے ساتھ ایک غم خوار امیرِ کارواں کا کردار

سفرِ تبوک میں ایک مخلص صحابی حضرت ذوالبجادین رضی اللہ عنہ کا بخار کی شدت کے باعث انتقال ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود بنفسِ نفیس ان کے تکفین وتدفین کے مراحل میں شریک رہے، حتیٰ کہ اپنے دستِ اقدس سے ان کو سپرد خاک کرکے ایک غم خوار امیر کے کردار سے روشناس کیا، اور ان کے حق میں دعا کرتے ہوئے فرمایا: ’’اللّٰھم إني أمسیت راضیاً عنہ فارض عنہ۔‘‘ (رحمۃٌ للعالمین، ص:۱۱۸، حصہ اول)  

17: تفرقہ بازی و فسادات کی دینِ اسلام میں بالکل گنجائش نہیں

’’تبوک‘‘ روانگی سے قبل منافقین نے مسلمانوں کے مابین باہمی پھوٹ ڈالنے اور مسلمانوں کی بیخ کنی کی غرض سے ایک مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا، جس کو ضرورت ومصلحت کے دلفریب جلی عنوان کے ساتھ سرکاری حیثیت دینے کی غرض سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تشریف آوری کی درخواست پیش کی گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفرِ تبوک سے واپسی پر حاضری کا وعدہ کیا، مگر اللہ رب العزت نے منافقین کے عزائم اور اس نام نہاد مسجد کی قلعیکھول کر حقیقتِ حال سے آگاہ کیا۔ (تفسیر قرطبی:۸/۲۵۳) چنانچہ اس سلسلہ میں ان آیات کا نزول ہوا : 

’’وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ کُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ مِنْ قَبْلُ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّا الْحُسْنٰی وَ اللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ لَا تَقُمْ فِیْہِ اَبَدًا۔‘‘ (توبہ:۱۰۷،۱۰۸)

ترجمہ: ’’اور جنہوں نے (ان اغراض کے لیے) مسجد بنائی کہ (اسلام کو ) ضرر پہنچائیں اور (اس میں بیٹھ کر) کفر کی باتیں کریں، اور ایمانداروں میں تفریق ڈالیں، اور اس شخص کے قیام کا سامان کردیں جس اس کے قبل سے خدا ورسول کا مخالف ہے، اور قسمیں کھا جاویں گے کہ بجز بھلائی کے ہماری اور کچھ نیت نہیں، اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔ آپ اس میں کبھی (نماز کے لیے) کھڑے نہ ہوں۔‘‘

18: اعترافِ جرم صفاءِقلب کی علامت ہے 

اس سفر میں صرف دس افراد بغیر کسی شک وارتیاب وعذرِ شرعی پابہ رکاب نہ ہوسکے، جن میں کعب بن مالک، ہلال بن امیہ، مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہم کے نام نمایاں تھے، البتہ حق و صداقت سے معمور دل نےان حضرات کو منافقین کی طرح حیل و حجت پیش کرکے عذر خواہی کی جسارت سے باز رکھا، چنانچہ ندامت وپشیمانی کے ساتھ اپنی غلطی کا اعتراف کیا، مگر تکوینی نظام ومصلحت کے تحت ان حضرات سے مقاطعتِ کلامی کا حکم دیا گیا، چنانچہ تقریباً۵۰ دن مقاطعت کے بعد ان تینوں حضرات کی قبولیتِ توبہ سے متعلق ان آیات کا نزول ہوا: 

’’وعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا حَتّٰٓی اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْہِمْ اَنْفُسُہُمْ وَ ظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّآ اِلَیْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ لِیَتُوْبُوْا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔‘‘ (التوبہ:۱۱۸) 

ترجمہ: ’’اور ان شخصوں پر بھی (توجہ فرمائی)جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا، یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پر تنگی کرنے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ ہوگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ خدا (کی گرفت) سے کہیں پناہ نہیں،بجز اس کے کہ اسی کی طرف رجوع کیا جائے (اس وقت وہ خاص توجہ کے قابل ہوئے اور ) پھر ان کے حال پر خصوصی توجہ فرمائی، تاکہ وہ آئندہ بھی رجوع کیا کریں۔بے شک اللہ تعالی بہت توجہ فرمانے والے بڑے رحم کرنے والے ہیں۔‘‘

19: اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ا طاعت تمام رشتوں سے مقدم ہے

اس سماجی بائیکاٹ کے باعث نہایت رنج والم کی کیفیت کا سماں تھا، زمین باوجود اپنی وسعت تنگ محسوس ہورہی تھی، اقارب اور دوست احباب سب بیگانے نظر آنے لگے تھے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا نہایت قریبی دوست اور چچیرا بھائی ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی مجھے جواب نہ دیتا تھا، خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عالم تھا کہ آپ محبت بھری نگاہوں سے گوشۂ چشم سے میری شکستہ حالت کو مشاہدہ فرماتے، مگر ان کی جانب نگاہ اُٹھتے ہی معرضانہ رویہ دل چیر دیتا تھا۔ (صحیح بخاری) یہ سب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے آگے سرنگوں ہونے کا نتیجہ تھا۔ 

20: باطل واغیار کی جانب سے دنیاوی حشم وخدم کی پیشکش کو ٹُھکرانا

رئیسِ غسان کو جب اس تمام واقعہ ومقاطعتِ کلامی کی اطلاع پہنچی، اس نے شام کا ایک قاصد حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور اس نے دنیاوی آسائش و آرائش کے دلفریب تخیلاتی مناظر کو بصورتِ خط پیش کیا، اس خط کا مندرجہ یہ تھا: ’’ہم نے سنا کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تمہاری قدر نہ کی، اس لیے تم میرے پاس چلے آؤ، میں تمہاری شان کے موافق تم سے برتاؤ کروں گا۔‘‘ حضرت کعب رضی اللہ عنہ معتوبِ نبوی ہونے کے باجود شدید برہم ہوئے اور خط کوتندور میں جھونک دیا۔

21: مسلمانوں کے مابین محبت و تعلق کےجذبات

اللہ کی طرف سے اجابتِ توبہ کی نوید سنائے جانے پر تمام مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جس کی بشارت سلع نامی پہاڑ سے ایک بلند آواز شخص نے سنائی۔ روایت میں آتا ہے کہ وہ بلند آواز شخصیت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے۔ اس خوش کُن خبر کو سنتے ہی حضرت کعب رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے مسجد نبوی حاضرِ خدمت ہوئے، صحابہ کرامؓ جوق درجوق مبارکباد دینے لگے، اور خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا۔ اس سلسلہ کی ایک یادگار گھڑی کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’مہاجرین میں سے سب سے پہلے حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر میرا استقبال کیا، مجھ سے مصافحہ کرکے گلے لگایا، میں ان کے اس احسان کو کبھی نہیں بھلاسکتا۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ تبوک، رقم الحدیث:۴۴۱۸)22: درست گوئی باعثِ نجات ہے

حضرت کعب رضی اللہ عنہ توبہ کی قبولیت پر فرماتے ہیں: ’’اللہ رب العزت نے اسلام کی دولت سے سرفرازی کے بعد دوسری عظیم دولت صداقت گوئی کی اہمیت کو دل میں پیوستہ کیا، جس کی بدولت مجھے اس ابتلاء سے خلاصی نصیب ہوئی۔‘‘ چنانچہ پھر عزم کیا کہ آئندہ کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا اور اس عہد کو تادمِ حیات بخوبی نبھایا۔(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ تبوک، رقم الحدیث:۴۴۱۸) نیز حدیث شریف میں آتا ہے: 

’’سچی بات نیکی ہے، اور جنت کی جانب رہنما ہے، جبکہ جھوٹ گناہ ہے، اور گناہ جہنم کی جانب مفضی ہے۔‘‘

ان تمام تربیتی پہلؤوں میں پوری اُمت کو غور وفکر کی دعوت دی گئی ہے، جن کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے ایک پُرسکون وپائیدار بھائی چارگی کے جذبات پر قائم معاشرہ میں ایک دوسرے کے حقوق کو بآسانی پورا کیا جاسکتا ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں ان باتوں کو سمجھنے وعملی زندگی میں زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔