ریکوڈک منصوبہ: بیرک گولڈ نے سیکیورٹی خدشات کے باعث کام کی رفتار سست اور جائزے میں توسیع کا اعلان کر دیا

1

بیرک مائننگ کارپوریشن نے 26 مارچ 2026 کو ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے جاری اپنے بیان میں اس کی طویل مدتی اہمیت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

کمپنی کے مطابق فروری 2026 میں شروع کیے گئے جامع جائزے (ریویو) کو جولائی 2026 سے مزید 12 ماہ کے لیے توسیع دی جا رہی ہے۔

کمپنی نے واضح کیا کہ اس دوران منصوبے کی ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار کو سست کیا جائے گا، تاہم منصوبہ مکمل طور پر فعال نگرانی (ایکٹو مینجمنٹ) کے تحت جاری رہے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ بنیادی طور پر خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

کمپنی نے اس سے قبل بھی ان خدشات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے منصوبے کے حوالے سے ایک جامع جائزے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ بیرک گولڈ ایک غیرمقامی کینیڈین ملٹی نیشنل کمپنی ہے جو پاکستانی حکومت کے ساتھ طے شدہ ڈیل کے تحت بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے ریکوڈک سے سونا اور تانبہ نکالتی ہے۔

بیرک گولڈ نے سیندک پروجیکٹ معاہدہ سال 22 میں پاکستانی حکومت کے ساتھ کیا تھا جس کے بعد سے اس پرجیکٹ پر بیرک گولڈ کام کررہا ہے۔

اس سے کمپنی کی پروجیکٹس حاصل کرنے کے بعد سے ہی مقامی آبادی کی جانب سے یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ ان کی زمینوں اور حقوق کا استحصال کیا جاتا ہے، معاشی فوائد مقامی لوگوں تک نہیں پہنچتے اور روزگار میں بھی غیرمقامی افراد کو ترجیح دی جاتی ہے۔

مزید برآں رواں سال بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی دیگر چودہ اضلاع میں شامل اس چاغی ضلع کو نشانہ بنایا ہے جہاں ریکوڈک پراجیکٹ واقع ہے۔

اس دوران اپنے بیان میں بی ایل اے نے تمام غیرملکی اور پاکستانی کمپنیوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ بلوچ سرزمین پر بلوچ عوام کی منشا کے خلاف کام کر رہی ہیں اور فوراً یہاں سے نکل جائیں۔

اسی طرح آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کے اختتام پر بی ایل اے ترجمان نے آج بیان جاری کرتے ہوئے کہا غیر ملکی کمپنیوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ بلوچستان کے معدنی وسائل کے استحصال میں پاکستان کے ساتھ کسی بھی شراکت کو قبضے میں معاونت تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا ایک آزاد قوم کی حیثیت سے ہم اپنی سرزمین پر پاکستان کے اقتدار یا دعوے کو تسلیم نہیں کرتے، جو ادارے پاکستان کے نوآبادیاتی منصوبوں میں شریک ہوں گے، انہیں اسی تناظر میں دیکھا جائے گا اور ان کی موجودگی کو فوجی مشینری سے جدا نہیں سمجھا جائے گا۔