خضدار: ڈی ایس پی اغواء، کرخ و قلات میں شاہراہوں پر ناکہ بندیاں

20

بلوچستان کے ضلع خضدار سے ایک ڈی سی ایس پی مسلح افراد نے اغواءکرلئا جبکہ سی پیک روٹ پر دوسرے روز بدستور بلوچ آزادی پسندوں کا کنٹرول برقرار ہے جبکہ قلات سے جمیعت علماء اسلام کے رہنماء ک اسلحہ دوران ناکہ بندیاں تحویل میں لیا گیا۔

خضدار کے کرخ سے بلوچ آزادی پسندوں کی ناکہ بندی اور شہر پر کنٹرول کے دوران مولہ کراس سے سندھ، بھرام کے رہائشی ڈی ایس پی انور کو مسلح افراد نے حراست میں لے لیا جس کے بعد ان کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں مل سکی ہے۔

دریں اثناء آج قلات کے علاقے جوہان میں مسلح افراد نے جمعیت علما اسلام کے امیدوار بلوچستان اسمبلی سعید لانگو کے قافلے کو روک کر ان کے محافظوں سے اسلحہ تحویل میں لیا۔

مزید برآں آج دوسرے روز کرخ کے علاقے میں سی پیک روٹ پر بلوچ مسلح آزادی پسندوں کا کنٹرول برقرار ہے جہاں شاہراہ پر ناکہ بندی قائم کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی تحصیل کرخ میں بلوچ آزادی پسندوں نے سی پیک شاہراہ پر چیک پوائنٹ قائم کر کے کنٹرول سنبھالا تھا۔

مسلح افراد کی ناکہ بندی کے دوران فرار کی کوشش میں دو افراد ہلاک اور ایک کو حراست میں لیا گیا، جن کا تعلق مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے بتایا جارہا ہے۔

رواں سال اکتیس جنوری کو بلوچ لبریشن آرمی کے آپریشن ھیروف دوم کے دوران خضدار کے علاقے اورناچ سے پاکستانی فوج کے سات اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

بی ایل اے نے مذکورہ اہلکاروں کی رہائی کو قیدیوں کے تبادلے مشروط کرکے ایک ہفتے کی مہلت دی تھی تاہم بعدازاں اس میں پیش رفت نہ ہونے پر مذکورہ اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا گیا۔