خاران اور پنجگور میں فورسز پر حملہ اور راشن ضبط

0

بلوچستان کے مختلف اضلاع کوئٹہ، خاران اور پنجگور میں پاکستانی فورسز کو مزید حملوں میں نشانہ بنانے سمیت راشن کو ضبط کرلیا گیا ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق ضلع خاران کے علاقے گرک میں پاکستانی فوج کے لیے راشن لے جانے والی ایک ٹرک گاڑی کو مسلح افراد نے روک کر اس کو راشن سمیت ضبط کر لیا ہے۔

ادھر ضلع پنجگور کے علاقے پروم میں پاکستانی فوج کے اہلکاروں پر ایک اور حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے میں ایک اہلکار ہلاک ہوا جس کی لاش بعد ازاں قریبی فوجی کیمپ منتقل کر دی گئی۔

علاقائی ذرائع کے مطابق گزشتہ شب ہونے والے حملے کے بعد جب کمانڈنٹ معائنے کیلئے جائے وقوعہ پر پہنچے تو وہاں موجود اہلکار کو مبینہ طور پر اسنائپر حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔

یاد رہے کہ پنجگور کے علاقے پروم میں گزشتہ شب مسلح افراد نے پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے ممکنہ طور پر جدید آلات جیسے تھرمل اسکوپس اور نائٹ وژن کا استعمال کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں فوج کی ایک گاڑی براہ راست نشانہ بنی جبکہ مزید دو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

دوسری جانب مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ خاران اور ڈغاری کے علاقوں میں آپریشن کے خدشے کے پیش نظر ڈرون اور ہیلی کاپٹروں کی پروازیں دیکھی گئی ہیں۔