جبری لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔ نصراللہ بلوچ

16

جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں جمعہ کے روز بھی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جاری رہا، جو آج اپنے 6098ویں روز میں داخل ہو گیا۔

احتجاجی کیمپ کے دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ شرکاء نے جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے لاپتہ بلوچوں کے ماورائے قانون قتل اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر عبدالرزاق پرکانی کے لواحقین نے وی بی ایم پی سے رابطہ کرتے ہوئے بتایا کہ عبدالرزاق پرکانی ولد عبدالغنی، سکنہ مری آباد مچھ ضلع کچھی، کو سیکیورٹی فورسز نے رواں سال 10 جنوری کو عبدالغفار قلندرانی کے پیٹرول پمپ سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

لواحقین کے مطابق انہوں نے عبدالرزاق کی گرفتاری کی وجوہات جاننے کے لیے متعدد بار انتظامیہ سے رابطہ کیا، تاہم انہیں نہ تو گرفتاری کی کوئی وجہ بتائی جا رہی ہے اور نہ ہی ان کی خیریت کے بارے میں معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے لواحقین کو یقین دہانی کرائی کہ تنظیمی سطح پر عبدالرزاق کے کیس کو اعلیٰ حکام تک پہنچایا جائے گا اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عبدالرزاق پرکانی سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے اور انہیں قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے تاکہ ان کے خاندانوں کو جبری گمشدگی کی اذیت سے نجات مل سکے۔