تمپ، تربت اور تجابان میں ڈیتھ اسکواڈ کے خلاف کارروائی تین کارندے ہلاک۔ میجر گہرام بلوچ

1

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہاکہ سرمچاروں نے 4 مارچ 2026 کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر تمپ کے علاقے کونشقلات میں ایک ٹارگٹڈ کارروائی کی جس کے دوران ریاستی سرپرستی میں سرگرم مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے رکن مسلم ولد اسماعیل کو ہلاک کر دیا گیا۔
 
ترجمان نے کہاکہ سرمچاروں نے مذکورہ آلہ کار کو زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کی تاکہ اس سے تفتیش کرکے معلومات حاصل کی جا سکیں، تاہم اس نے سرمچاروں کو دیکھتے ہی فرار ہونے کی کوشش کی ۔ سرمچاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا۔
 
انہوں نے کہاکہ ہلاک ہونے والا شخص تمپ میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈ کے بدنامِ زمانہ سرغنہ سعید عابد کی سرپرستی میں کام کر رہا تھا۔ مذکورہ آلہ کار طویل عرصے سے بلوچ نوجوانوں کی مخبری کرنے، انہیں قابض فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بنوانے اور مقامی آبادی کے گھروں میں لوٹ مار کی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث تھا۔
 
 
انہوں نے کہاکہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے تربت کے علاقے آبسر میں 12 مارچ 2026 کو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران پرویز ولد نیک بخت نامی ایک ریاستی آلہ کار کو ہلاک کر دیا۔ پرویز ماضی میں تحریک کا حصہ رہا تھا لیکن 2017 میں پاکستانی فوج کے سامنے سرنڈر کرکے تحریک کے خلاف سرگرم عمل ہو گیا تھا۔
 
مزید کہاکہ کارروائی کے دوران سرمچاروں نے اسے زندہ پکڑنے کی کوشش کی تاکہ انٹیلی جنس مقاصد کے لیے اس سے پوچھ گچھ کی جا سکے، لیکن اس نے مزاحمت کیا جس کے نتیجے میں وہ مارا گیا۔ پرویز آبسر اور گردونواح میں سرگرم مقامی ڈیتھ اسکواڈ کا ایک کلیدی رکن تھا۔
 
 
ترجمان نے کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 11 فروری 2026 کو تجابان کے علاقے کرکی میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے پاکستان فوج اور مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے مخبر واحد ولد کمالان ساکن تجابان کو حراست میں لے لیا۔
 
انہوں نے کہاکہ گرفتاری کے بعد تفتیشی عمل کے دوران مذکورہ شخص نے سنگین جرائم کا اعتراف کیا۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ بدنامِ زمانہ ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ سعید لانٹو کی سرپرستی میں کام کر رہا تھا اور 4 فروری 2022 کو بالگتر کے مقام پر سرمچار  نصیب اور سرمچار الطاف کی شہادت میں براہِ راست ملوث تھا۔ اس کے علاوہ، واحد ولد کمالان نے بالگتر، ہوشاب، تجابان اور کرکی کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر متعدد فوجی آپریشنز اور مخبری کی کارروائیوں میں شرکت کا اعتراف بھی کیا۔ اعترافِ جرم اور شواہد کی بنیاد پر سرمچاروں نے 6 مارچ 2026 کو اسے منطقی انجام تک پہنچا دیا۔
 
آخر میں کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ یہ واضح کرتی ہے کہ دشمن فوج کے لیے مخبری کرنے والے تمام آلہ کار اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے ہماری ہٹ لسٹ پر ہیں۔ جو بھی بلوچ قومی تحریک کے خلاف مخبری یا غداری کا مرتکب ہوگا، اسے اس کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔