اطلاعات کے مطابق گزشتہ شب تقریباً ساڑھے بارہ بجے کے قریب پاکستانی فورسز نے سیاسی کارکن اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سید بی بی بلوچ کے گھر پر چھاپہ مار کر تلاشی لی۔
ذرائع کے مطابق سید بی بی بلوچ کا نام حکومت کی جانب سے جاری کردہ فورتھ شیڈول کی فہرست میں شامل ہے اور وہ باقاعدگی سے ہر ہفتے سی ٹی ڈی کے پاس پیشی دیتی ہیں۔
سید بی بی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رات ساڑھے بارہ بجے کے قریب سی ٹی ڈی، ایف سی اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے مشترکہ طور پر ان کے گھر پر ریڈ کیا۔
ان کے بقول، اہلکاروں نے بچوں اور خواتین کو نیند سے جگایا، موبائل فون چیک کیے اور گھر کے سامان کو ادھر ادھر بکھیر دیا، جس سے اہل خانہ کو ذہنی اذیت اور ہراساں ہونے کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران اہلکاروں کا رویہ خواتین کے ساتھ غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ تھا۔ سید بی بی بلوچ کے مطابق اہلکاروں نے ان پر دہشت گردی کو فروغ دینے اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے رابطے رکھنے سمیت “یہاں پر دوسرا ڈاکٹر ماہ رنگ بننے” جیسے الزامات بھی لگائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اہلکاروں نے زیرِ حراست ساجد احمد کے بارے میں پوچھ گچھ کی، جبکہ ان کے بھائی ڈاکٹر حنیف شریف سے متعلق بھی معلومات حاصل کی گئیں اور ان کے فون نمبر لیے گئے۔ سید بی بی کے مطابق اہلکاروں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ انہیں بیرونِ ملک سے فنڈنگ ملتی ہے۔
سید بی بی بلوچ نے کہا کہ ان کا نام پہلے ہی فورتھ شیڈول میں شامل ہے اور وہ باقاعدگی سے سی ٹی ڈی میں پیش ہو کر حاضری لگاتی ہیں، جبکہ ان کا مکمل بائیو ڈیٹا بھی وہاں موجود ہے۔ اس کے باوجود، ان کے گھر پر چھاپہ مارنا، اہل خانہ کو ہراساں کرنا اور سامان کی توڑ پھوڑ کرنا، ان کے بقول، سمجھ سے بالاتر ہے۔

















































