تربت، پنجگور: مزید دو لاشیں برآمد، تربت میں مقتول کے اہلِ خانہ کا دھرنا

0

بلوچستان سے لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ جاری، مزید دو لاپتہ افراد قتل

بلوچستان کے ضلع کیچ کی تحصیل تربت کے علاقے ہوشاپ سے پولیس نے ایک شخص کی گولیوں سے چھلنی لاش قبضے میں لے کر ہسپتال منتقل کردی، جس کی شناخت شریف ولد چنگیز کے نام سے ہوئی ہے۔

مقتول کو گزشتہ روز نامعلوم مسلح موٹرسائیکل سوار افراد اغواء کرکے اپنے ہمراہ لے گئے تھے، جسے بعد ازاں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا ہے۔

واقعہ کے خلاف مقتول کے ورثاء نے لاش کے ہمراہ گوادر، تربت تا کوئٹہ روڈ ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کردی، جس کی وجہ سے سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

ادھر پنجگور میں لاشیں ملنے کا سلسلہ تھم نہ سکا، آج رخشاں ندی سے ملنے والی لاش کی شناخت شاہ جہاں ولد رحمت اللہ سکنہ قلات کے نام سے ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ ضلع پنجگور میں گزشتہ دو مہینوں سے روزانہ کی بنیاد پر لاشیں ملنا معمول بن گیا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق دو مہینوں کے دوران اب تک بائیس ایسی لاشیں مختلف مقامات پر ملی ہیں جنہیں یا تو لاپتہ کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا یا موقع پر فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔

واضح رہے کہ پنجگور و بلوچستان کے دیگر علاقوں سے ملنے والی لاشوں میں زیادہ تر کی شناخت ان افراد کے طور پر ہوئی ہے جنہیں پہلے ہی پاکستانی فورسز یا مقامی ڈیتھ اسکواڈز نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا، جبکہ پنجگور و کیچ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ضلع پنجگور میں بلوچ نوجوانوں کے قتل کی حالیہ وارداتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ان میں فروری کے شروع سے اب تک مزید اضافہ ہوا ہے۔