بی ایل اے نے آپریشن میں حصہ لینے والے مزید تین سرمچاروں کی تفصیلات شائع کردئے 

0

تنظیم کی جانب سے گذشتہ ماہ آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے میں شامل جانبحق اور فدائین سرمچاروں کے تصاویر و تفصیلات جاری کئے جارہے ہیں، تنظیم نے آج مزید تین سرمچاروں کے تفصیلات شائع کئے ہیں۔

ہکل پر بی ایل اے کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق نوشکی کے رہائشی اور تنظیم کے ایس ٹی او ایس کے رکن شہید عصمت اللہ عرف سلال ولد حافظ عبدالستار مینگل جنگِ آزادی کا ایسا انقلابی سپاہی تھا جس نے اپنے وجود کو تحریکِ آزادی کے شعور میں ڈھال کر ایک متحرک قوت میں بدل دیا تھا۔ 

اس کے لیے مزاحمت کوئی وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک مسلسل عہد تھا، جسے وہ شعور، نظم اور عملی اقدام کے ساتھ آگے بڑھاتا رہا، وہ جانتا تھا کہ آزادی کی منزل صرف وہی قومیں پاتی ہیں جو قربانی کو اپنا شعار اور استقامت کو اپنی روایت بنا لیتی ہیں۔ 

اسی یقین کے ساتھ وہ ہر محاذ پر ڈٹا رہا اور دباؤ، تھکن اور خطرات کو خاطر میں نہ لایا، اس کی جدوجہد اس حقیقت کی گواہ بن گئی کہ انقلابی سپاہی اپنی قوت ہتھیار سے نہیں بلکہ اپنے غیر متزلزل عزم اور زندہ شعور سے حاصل کرتا ہے۔

تنظیم کے مطابق شہید عصمت اللہ نے 2024 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور ایک سال تک شہری محاذ پر سرگرم رہا 2025 میں وہ تنظیمی فیصلے کے تحت پہاڑی محاذ پر منتقل ہوا، اس کی جنگی صلاحیت کی بنیاد پر اسے تنظیم کے اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشن اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) میں شامل کیا گیا۔

شہید عصمت اللہ آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے میں نوشکی کے محاذ پر موجود تھا، جہاں اس نے اپنے اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشن اسکواڈ کی ٹیم کے ساتھ اہم محاذ سنبھالے، اسی محاذ پر لڑتے ہوئے اس نے جامِ شہادت نوش کیا۔

تنظیم نے ایک اور فدائین سرمچار کے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کراچی ماڑی پور سے تعلق رکھنے والے امتیاز بلوچ عرف ازل ولد صابر احمد جون 2022 میں تنظیم کا حصہ بنیں اور دو سال بعد مجید برگیڈ میں شامل ہوگئے۔

فدائی امتیاز بلوچ بی ایل اے میں شمولیت کے بعد شہری محاذ پر سرگرم رہا ایک سال بعد، تنظیمی فیصلے کے تحت وہ پہاڑی محاذ بولان میں منتقل ہوا اس نے بولان کے علاوہ کاہان، ناگاہو، دکی اور شور پارود کے محاذوں پر بھی اپنی خدمات سرانجام دیں، فدائی امتیاز بلوچ آپریشن درۂ بولان فیز I اور آپریشن ہیروف فیز I میں بھی شریک رہا۔

 فدائی امتیاز بلوچ جنگِ آزادی کا ایسا جانباز تھا جس کی سوچ، قدم اور ہتھیار تینوں ایک ہی مقصد پر مرکوز تھے وہ محاذ کو محض مقابلہ نہیں بلکہ فیصلہ کن جدوجہد سمجھتا تھا، جہاں ہر حرکت ناپ تول کر کی جاتی ہے اور ہر لمحہ چوکسی کا تقاضا کرتا ہے۔ 

دشمن کی صف بندی کو توڑنا اس کی نقل و حرکت کو محدود کرنا اور اپنے مورچوں کو محفوظ رکھنا اس کی اہم جنگی صلاحیتوں میں شامل تھا اسی لیے وہ معرکے سے پہلے علاقے کا مکمل جائزہ لیتا، رابطوں کو مضبوط رکھتا اور پیش قدمی کے ہر مرحلے کو منظم انداز میں آگے بڑھاتا تھا۔

تنظیم نے بتایا ہے کہ فدائی امتیاز بلوچ کا تعلق کراچی کے علاقے ماڑی پور سے تھا اس نے قومی آزادی کی تحریک کے سفر کا آغاز انقلابی سیاسی سرگرمیوں سے کیا اس نے انقلابی تعلیم کو اپنے اندر جذب کرتے ہوئے ماڑی پور، کراچی سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور بعد ازاں بولان کے محاذ پر منتقل ہوا۔ 

شہید امتیاز کراچی جیسے شہر میں عیش و عشرت کے بجائے قومی غلامی کے خلاف سخت فیصلوں کا خواہاں تھا، جس کی بنیاد پر وہ بی ایل اے میں شامل ہو کر قومی آزادی کی جنگ میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے تاریخ میں امر ہو گیا۔ 

شہید امتیاز کو قومی آزادی کی تحریک سے دور رکھنے کے لیے اس کے دو بھائیوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا، جن میں سے ایک تاحال لاپتہ ہے مگر شہید کے عزم اور ارادوں میں کبھی لغزش نہیں آئی، کیونکہ وہ فکری طور پر انتہائی مضبوط اور باشعور ساتھی تھا اور اپنے مقصد پر آخری سانس تک ڈٹا رہا۔

فدائی امتیاز بلوچ آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلہ کے دوران  نوشکی کے محاذ پر موجود تھا نوشکی کے محاذ پر فدائی امتیاز اور اس کے ساتھیوں نے فرنٹ لائن میں لڑتے ہوئے دشمن کو مضبوط سمجھے جانے والے قلعوں کے اندر محدود اور مفلوج کر دیا اور اس معرکے میں دشمن کے غرور کو نوشکی کی مٹی میں دفن کر دیا فدائی امتیاز بلوچ نے طویل لڑائی کے بعد اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے جنگِ آزادی کی تاریخ میں اپنا نام امر کردیا۔

آپریشن ھیروف میں حصہ لینے فدائی نثار بلوچ ایک تجربہ کار سرمچار تھا جس نے بولان اور نوشکی کے محاذوں پر اپنی خدمات سرانجام دیں 2020 میں بی ایل اے میں شمولیت کے بعد اس نے مجید بریگیڈ کے لیے اپنا نام پیش کیا۔ 

وہ ایک پختہ اور باصلاحیت سرمچار تھا بولان اور نوشکی کے محاذوں پر اس نے متعدد معرکوں کی قیادت کی وہ اپنے سرمچار ساتھیوں کی صفوں کو منظم کرنے، دباؤ میں فیصلے کرنے اور دشمن کی چالوں کو قبل از وقت بھانپنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا تھا، اس کے احکامات مختصر مگر فیصلہ کن ہوتے تھے اور اس کی موجودگی محاذ پر مضبوط نظم اور اعتماد پیدا کرتی تھی اسی اصول پر وہ اپنے دستوں کو آگے بڑھاتا رہا اور ہر معرکے میں مؤثر کردار ادا کرتا رہا۔

تنظیم کے مطابق اسی کے ساتھ وہ ایک انقلابی شاعر بھی تھا جس کے الفاظ بارود کی گونج کی طرح دلوں میں اترتے تھے اس کی شاعری محض جذبات نہیں بلکہ مزاحمت کا شعوری اعلان تھی، جو تھکے ہوئے قدموں کو پھر سے حرکت دیتی اور حوصلوں کو تازہ کرتی تھی۔ 

وہ مورچے میں بھی قلم کو زندہ رکھتا اور محاذ سے بھی پیغامِ مزاحمت بلند کرتا تھا یوں وہ بندوق اور لفظ دونوں کا سپاہی بن کر ابھرا، جس نے ثابت کیا کہ انقلابی جدوجہد میں فکر اور جنگ ایک دوسرے کی قوت بڑھاتے ہیں۔

فدائی نثار بلوچ آپریشن درۂ بولان فیز 1، فیز 2 اور آپریشن ہیروف فیز 1 میں بھی شریک رہا آپریشن ہیروف فیز 2 میں وہ نوشکی ایف سی ہیڈکوارٹرز محاذ کا آپریشن کمانڈر تھا، جہاں اس کی قائدانہ صلاحیت نے دشمن کی فوج کو شدید نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کردیا جس کے باعث دشمن کی فوج لڑنے سے پہلے اپنی شکست تسلیم کرچکی تھی۔ 

اس صورتِ حال کے باعث نوشکی کے چھ روزہ معرکے میں سرمچاروں نے پورے شہر کا کنٹرول سنبھالے رکھا، اور آپریشن ہیروف کے تمام عسکری و سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے بعد منظم انداز میں شہر سے نکل گئے, فدائی نثار بلوچ نے نوشکی کے محاذ پر جامِ شہادت نوش کر کے اپنا نام جنگِ آزادی کے شہیدوں کی فہرست میں درج کرایا اور امر ہو گیا۔