بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن ھیروف میں شامل، مزید چھ سرمچاروں کے تفصیلات جاری کردئے

112

تنظیم کی جانب سے گذشتہ ماہ آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے میں شامل جانبحق اور فدائین سرمچاروں کے تصاویر و تفصیلات جاری کئے جارہے ہیں، تنظیم نے مزید چھ سرمچاروں کے تفصیلات شائع کئے ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ونگ ہکل کی جانب سے شائع کردہ تفصیلات کے مطابق آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلہ میں حصہ لینے والے سندھ شہداد کوٹ سے تعلق رکھنے والے عبدالوحید قلندرانی عرف دوستین نوشکی محاذ پر شہید ہوئے۔

تنظیم کے مطابق عبدالوحید قلندرانی، جنہیں سرمچار ساتھیوں میں ‘دوستین’ کے نام سے پکارا جاتا تھا ان مٹ جذبوں کے امین تھے جو جغرافیائی حدود سے ماورا اپنی جڑوں سے جڑے رہے، اگرچہ ان کی پیدائش اور رہائش سندھ کے شہر شہداد کوٹ میں تھی لیکن ان کی رگوں میں دوڑنے والا بلوچ خون انہیں ہمیشہ اپنی مٹی کی پکار سناتا رہا۔ 

دوستین کی شخصیت اس حقیقت کی عکاس تھی کہ ایک بلوچ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو، اس کا دل اپنی سرزمین کی آزادی کے لیئے ہی دھڑکتا ہے، 2023 میں جب انہوں نے بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کا راستہ چنا تو یہ ان کے اس پختہ شعور کا ثبوت تھا کہ ان کی اصل پہچان اور بقا بلوچستان کی سنگلاخ پہاڑیوں میں ہے۔

 

تنظیم نے کہا ہے کہ دوستین نے بولان کے دشوار گزار راستوں اور قلات کے یخ بستہ محاذوں پر اپنی عسکری مہارت کا لوہا منوایا، وہ ایک ایسے جنگجو تھے جنہوں نے سندھ کی آسائشوں کو خیرباد کہہ کر اپنی مٹی کی پکار پر لبیک کہا اور پہاڑوں کی کٹھن زندگی کو اپنالیا۔ 

جب آپریشن ہیروف کا آغاز ہوا، تو دوستین نے نوشکی کے محاذ پر دشمن کے خلاف ہراول دستے کا کردار ادا کیا، شدید جھڑپوں کے دوران، انہوں نے دشمن کی پیش قدمی کو روکتے ہوئے اور اپنے ساتھیوں کو دفاعی برتری فراہم کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ 

تنظیم نے کہا عبدالوحید قلندرانی کی قربانی ان تمام بلوچوں کے لیئے مشعلِ راہ ہے جو اپنی سرزمین سے دور رہ کربھی اس کی آزادی کا خواب آنکھوں میں سجاتے ہیں۔

 

ہکل میڈیا پر جاری کردہ تفیسلات کے مطابق آپریشن ھیروف میں حصہ لینے والے بولان کے رہائشی فدائی سہیل احمد بگٹی عرف وطن زاد ولد ڈاڈا کیچی نے مارچ 2025 میں تنظیم میں شامل ہوگئے اور مئی میں مجید برگیڈ کا حصہ بنیں۔

فدائی وطن زاد اپنے انقلابی کردار اور عمل کے باعث حقیقی معنوں میں اپنے نام کے مطابق وطن زاد تھے، فدائی بننے کا ان کا فیصلہ اس یقین کی علامت تھا کہ بعض اوقات تاریخ کو آگے بڑھانے کے لیے فرد کو اپنی ذات سے بلند ہو کر قربانی کی آخری حد تک جانا پڑتا ہے، بلوچ سرمچار اسی عزم اور یقین کے ساتھ اپنے وطن کو پنجابی قبضے سے آزاد کرانے کے لیے اپنی زندگیاں قربان کر رہے ہیں۔

تنظیم کے مطابق آپریشن ہیروف فیز دو کے دوران نوشکی کے محاذ پر وطن زاد نے اسی فلسفۂ قربانی کو عملی شکل دی، انہوں نے دشمن کے سامنے ڈٹ کر لڑتے ہوئے یہ پیغام چھوڑا کہ فدائی محض ایک جنگی کردار نہیں بلکہ ایک انقلابی فکر کی علامت ہوتا ہے، جو قومی آزادی کو ذاتی زندگی سے کہیں زیادہ قیمتی سمجھتی ہے

 

ہکل میڈیا کے مطابق کوئٹہ سریاب کی گلیوں سے اٹھنے والا ولید جان پندرانی عرف چاکر ولد گل محمد پندرانی مروجہ راستوں کا مسافر نہیں تھا، بلکہ اس نے ‘چاکر’ بن کر اس کٹھن راہ کا انتخاب کیا جہاں قدم قدم پر آزمائشیں تھیں، شہر کی آسائشیں اس کے پاؤں کی بیڑیاں نہ بن سکیں اور جون 2025 میں اس نے شعوری طور پر پہاڑوں کی خاموشی کو اپنی آواز بنایا۔ 

وہ محض ایک جنگجو نہیں بلکہ ایک خواب کا پیروکار تھا، جس کی تعبیر اسے نوشکی کے میدانوں میں ملی آپریشن ہیروف کی تپتی دوپہروں میں جب بارود کا دھواں آسمان کو چھو رہا تھا، چاکر نے دشمن کے سامنے ایک ناقابلِ تسخیر چٹان بن کر خود کو تاریخ کے سپرد کردیا۔ 

  

زور آباد نوشکی کے شہید فہیم مینگل عرف کوبرا ولد ریٹائرڈ صوبیدار محمد بخش11 جون 2025 میں تنظیم کا حصہ بنے فہیم مینگل جنہیں گوریلا صفوں میں ‘کوبرا’ کی تیکھی پہچان ملی نوشکی کے اس مٹیالے افق کا وہ استعارہ تھے جس نے مصلحتوں کے بجائے مزاحمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا کوبرا کی جنگی مہارت اور دشمن پر وار کرنے کی تیزی ان کے نام کی عکاس تھی، وہ خاموشی سے ہدف تک پہنچنے اور فیصلہ کن ضرب لگانے کے ماہر مانے جاتے تھے۔ 

تنظیم نے انکے حوالے سے بتایا کہ آپریشن ہیروف کے دوران جب بلوچستان کے چپے چپے پر بارود کی بو پھیلی ہوئی تھی، فہیم مینگل نے اپنے آبائی علاقےنوشکی کے محاذ پر دشمن کی پیش قدمی کے سامنے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا کردار ادا کیا، انہوں نے اپنی مٹی کا قرض اپنے لہو سے چکاتے ہوئے آخری دم تک مقابلہ کیا اور جامِ شہادت نوش کیا۔

 

 بلوچ لبریشن آرمی کے مطابق شہید محمد اشرف مینگل عرف سربلند ولد عبدالرحمان مینگل، سکنہ پندران ضلع قلات نے سال 2025 میں مسلح جہدو کا آغاز کیا، محمد اشرف مینگل، جنہیں ساتھیوں نے ان کے بلند حوصلوں کی بنا پر سربلند کا نام دیا قلات کے سنگلاخ پہاڑوں اور غیرت مند روایات کے امین تھے۔ 

تنظیم نے کہا ہے کہ ان کا سفرِ عشق محض جذبات کا مرہونِ منت نہ تھا بلکہ یہ اس ظلم و جبر کا جواب تھا جو ان کے خاندان نے برسوں جھیلا، سربلند کے پورے خاندان کو اجتماعی سزا کے ظالمانہ کالے قانون کے تحت نشانہ بنایا گیا ان کے بوڑھے والد اور بھائیوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، جس نے اشرف کے دل میں آزادی کی تڑپ کو ایک شعلے میں بدل دیا۔ 

اپنوں کی جدائی اور زندانوں کی سختیوں نے انہیں توڑنے کے بجائے مزید پختہ کر دیا، اور 2025 میں انہوں نے تمام مصلحتوں کو تیاگ کر مسلح جدوجہد کی راہ چن لی۔

 

سربلند نے قلات کے کٹھن محاذوں پر اپنی عسکری صلاحیتوں کا لوہا منوایا وہ ایک ایسے سرمچار تھے جن کے سینے میں انتقام کی آگ نہیں بلکہ اپنی مٹی کی محبت کا نور تھا۔ 

تنظیم نے کہا ہے جب ‘آپریشن ہیروف’ کا آغاز ہوا تو انہوں نے نوشکی کے محاذ پر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑنے کو ترجیح دی، شدید جھڑپوں کے دوران، انہوں نے ثابت کیا کہ جس قوم کے نوجوانوں کو عقوبت خانوں کا خوف ڈرانے کے بجائے میدانِ جنگ کی طرف دھکیل دے، اسے زیر کرنا ناممکن ہے محمد اشرف مینگل نے اپنی آخری سانس تک دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا، اور اپنے نام کی طرح اپنی قوم کا سر بھی بلند کرگئے۔

 

شہید پسند خان زہری عرف خالد

ولد: زمان کہنی

سکنہ: شفیع کالونی، زہری

شمولیت بی ایل اے: فروری 2025

محاذ: ناگاہو، قلات

شفیع کالونی زہری کے رہائشی شہید پسند خان زہری عرف خالد ولد ولد زمان کہنی نے 2025 کے آغاز میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور ناگاہو کے محاذ پر اپنی خدمات سرانجام دیں۔ 

تنظیم نے انکے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ محاذ پر جدوجہد کو محض ایک مرحلہ نہیں بلکہ اپنی قوم کے مستقبل سے جڑی ہوئی ذمہ داری سمجھتا تھا، خاموش طبیعت، مضبوط ارادہ اور مقصد کے ساتھ اس کی وابستگی نے اسے اُن کرداروں میں شامل کر دیا جو مزاحمت کی داستان میں ایک معنی خیز مقام حاصل کرتے ہیں۔ 

شہید پسند کا تعلق بلوچستان کے تاریخی علاقے زہری سے تھا ایک ایسا خطہ جہاں کے باسیوں نے ہمیشہ اپنی دھرتی کے ساتھ وفاداری کو زندگی کا بنیادی اصول سمجھا ہے، پسند خان نے جب مزاحمت کی صفوں میں قدم رکھا تو اس کے فیصلے کے پیچھے ایک گہرا شعور اور اپنی قوم کے ساتھ وابستگی کارفرما تھی وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو مشکل راستوں سے گھبراتے نہیں بلکہ انہیں اپنی ذمہ داری سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی کے مطابق شہید پسند خان آپریشن ہیروف فیز دو میں نوشکی کے محاذ پر موجود تھا، جہاں وہ دشمن کے ساتھ طویل جھڑپ کے بعد شہید ہوگیا۔