بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن ھیروف میں حصہ لینے والے چھ سرمچاروں کے تفصیلات جاری کردئے

0

تنظیم کی جانب سے گذشتہ ماہ آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے میں شامل جانبحق اور فدائین سرمچاروں کے تصاویر و تفصیلات جاری کئے جارہے ہیں، تنظیم نے مزید چھ سرمچاروں کے تفصیلات شائع کئے ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ونگ ہکل کی جانب سے شائع کردہ تفصیلات کے مطابق آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلہ میں حصہ لینے والے گچک پنجگوت کے رہائشی فتح اسکواڈ کے فراز احمد عرف دوستین ولد منیر احمد نے سال 2025 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور خاران و قلات کے محاذ پر قائم رہے۔

تنظیم کے مطابق شہید فراز احمد عرف دوستین اُن نوجوانوں میں شامل تھے جنہوں نے قومی آزادی کی جدوجہد کو محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی ذمہ داری کے طور پر قبول کیا، بی ایل اے میں شمولیت کے بعد انہوں نے مختصر وقت میں اپنی سنجیدگی، نظم و ضبط اور جنگی صلاحیتوں کے باعث اپنی پہچان بنائی، جس کے نتیجے میں انہیں تنظیم کے فتح اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔ 

اس یونٹ کا حصہ بننا اس بات کی علامت تھا کہ دوستین اعلیٰ جنگی مہارت اور اہم کارروائیوں میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، خاران اور قلات کے محاذوں پر انہوں نے انہی اصولوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور ہر معرکے میں نظم، حکمتِ عملی اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔

تنظیم نے کہا ہے آپریشن ہیروف فیز دو کے دوران خاران کے محاذ پر سرمچاروں نے منظم حکمتِ عملی اور غیر معمولی جرات کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا۔ اسی معرکے میں فراز اپنے ساتھیوں کے ساتھ فرنٹ لائن پر موجود تھے اور انہوں نے آخری لمحے تک لڑتے ہوئے قربانی کے اُس فلسفے کو عملی صورت دی جس پر آزادی کی تحریکیں استوار ہوتی ہیں۔

ہکل پر جاری تفصیلات کے مطابق خاران میں آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے میں حصہ لینے والے زنگی ناوڑ نوشکی کے رہائشی شہید ذاکر مینگل عرف نوتک، ولد حاجی خیر محمد امیر زئی مینگل بھی سال 2025 میں تنظیم کا حصہ بنیں شور پارود، نوشکی کے محاذ پر ذمہ داری سرانجام دی۔

 

تنظیم نے انکے حوالے کہا ہے کہ ذاکر بلوچ جنہیں گوریلا صفوں میں نوتک کے نام سے جانا گیا، نوشکی کی اس زرخیز مٹی کے سپوت تھے جہاں علم اور مزاحمت کا سنگم ہمیشہ سے موجود رہا ہے، بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد جیسے معتبر ادارے سے الیکٹرانکس انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد، ذاکر کے سامنے ایک پرآسائش زندگی اور روشن مستقبل کے تمام راستے کھلے تھے، لیکن ان کے شعور نے مصلحتوں پر مزاحمت کو ترجیح دی۔ 

اپریل 2025 میں جب انہوں نے باقاعدہ طور پر بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی تو وہ اپنے ساتھ صرف ایک عزم نہیں بلکہ جدید دور کے جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ ایک سائنسی و فنی ذہن بھی لائے تھے۔

 

تنظیم نے کہا نوتک تحریک کے ان چند ‘ٹیکنیکل’ سنگتوں میں شامل تھے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو قومی دفاع کے لیئے وقف کردیا تھا، انہوں نے اپنی الیکٹرانکس کی تعلیم کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچ جنگِ آزادی کو جدید فنی خطوط پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، ان کا ماننا تھا کہ دشمن کی عددی برتری کو صرف ٹیکنالوجی اور ذہانت سے ہی شکست دی جاسکتی ہے شور پارود، نوشکی اور خاران کے محاذوں پر ان کی فنی خدمات نے تنظیم کو عسکری میدان میں نئی جہتیں عطا کیں۔

 

ہکل میڈیا کے مطابق سنگت نوتک نے ثابت کیا کہ ایک دانشور اور انجینئر جب بندوق تھامتا ہے، تو وہ صرف گولی نہیں چلاتا بلکہ دشمن کے پورے نظام کو مفلوج کردیتا ہے۔ ذاکر بلوچ نے اپنی سرزمین کی آزادی کے عظیم مقصد کے لیئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، اور یہ پیغام دے گئے کہ بلوچ قوم کی جدید نسل اپنے علم اور لہو کے امتزاج سے آزادی کی نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔

 

ہکل میڈیا نے فتح اسکواڈ کے ایک اور سرمچار قسیم مراد عرف تنویر، ولد مراد علی سیاہ پاد کے حوالے بتایا ہے کہ شہید قسیم مراد عرف تنویر کا تعلق خاران سے تھا جہاں ریت کے ذروں میں بھی مزاحمت کی کہانیاں سانس لیتی ہیں، مزاحمت کی فضا میں پلنے والے قسیم نے بی ایل اے میں شمولیت کے بعد نوشکی اور خاران کے محاذوں پر اپنی خدمات سرانجام دیں۔ 

انہوں نے کہا نوشکی اور خاران کے محاذ اس کے لیے صرف جنگ کے میدان نہیں تھے بلکہ وہ راستے تھے جہاں ایک سرمچار اپنی وفاداری، حوصلے اور جنگی مہارت کا امتحان دیتا ہے، انہی اوصاف کے باعث قسیم کو تنظیم کے ہر اول دستے، فتح اسکواڈ، میں جگہ ملی، وہ دستہ جو ہمیشہ معرکے کی پہلی صف میں کھڑا ہوتا ہے اور جہاں صرف وہی قدم رکھتے ہیں جن کے دلوں میں خوف کے بجائے قومی آزادی کی دھڑکن ہوتی ہے۔

انکے مطابق آپریشن ہیروف فیز دو میں قسیم خاران کے محاذ پر موجود تھے، خاران کے معرکے میں وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس طرح ڈٹ کر لڑے جیسے آزادی کا خواب ان کی رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہا ہو۔ 

بالآخر انہی جھڑپوں میں انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا، مگر ان کی قربانی خاران کی فضا میں ایک ایسی داستان بن کر گونجتی رہے گی جو آنے والی نسلوں کو یہ یاد دلاتی رہے گی کہ جب کوئی اپنی دھرتی کے لیے لڑتا ہے تو اس کی زندگی ایک دن ضرور تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔

تنظیم نے کہا ہے ناصر جتک عرف صدام، ولد نصیر جتک سکنہ سرآب، زہری شہری گوریلہ کے طور پر سال 2024 میں بی ایل اے میں شامل ہوئے اور سال 2025 میں پہاڑی محاذ پر منتقل ہوگئے فتح اسکواڈ کے رکن کے طور پر زہری اور قلات کے محاذ پر ذمہ داری سرانجام دی۔

تنظیم نے کہا شہید ناصر جتک نے بطور شہری گوریلہ اپنی مسلح مزاحمت کے سفر کا آغاز کیا، شہری گوریلہ کی حیثیت سے انہوں نے نہایت خاموشی اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کیں، شہری گوریلہ کی جدوجہد محض ہمت کا تقاضا نہیں کرتی بلکہ سخت رازداری، مسلسل محنت اور تنظیمی پابندی بھی اس کا بنیادی حصہ ہوتی ہے، اور صدام ان تمام اصولوں کے پابند تھے۔ 

محدود وسائل اور سخت حالات کے باوجود انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایک منظم اور محنتی سرمچار ہی مزاحمت کی بنیاد کو مضبوط بناتا ہے۔

تنظیم نے انکے حوالے بتایا 2025 میں تنظیمی فیصلے کے تحت وہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے، جہاں قلات اور زہری کے علاقوں میں انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں، شہری گوریلہ کے تجربے اور مسلسل محنت کے باعث انہیں تنظیم کے ہر اول دستے، فتح اسکواڈ، میں شامل کیا گیا، جو اس بات کی علامت تھا کہ وہ نہ صرف ایک بہادر سرمچار تھے بلکہ اہم معرکوں میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ 

بی ایل اے کے مطابق آپریشن ہیروف فیز دو کے دوران نوشکی کے محاذ پر انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اسی جدوجہد میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

سبی سے تعلق رکھنے والے بی ایل اے “ایس او ٹی ایس” سرمچار رضا عرف مشمار، ولد شبیر احمد گیشکوری 2025 میں تنظیم کا حصہ بنیں اور نوشکی کے محاذ پر لڑتے ہوئے شہید ہوئے، انہوں نے شور پارود کے محاذ پر ذمہ داری سرانجام دی۔

تنظیم نے انکے حوالے سے بتایا ہے کہ آزادی کی جنگ میں سب سے بڑی طاقت انسان کا یقین اور اس کی قربانی ہوتی ہے، مشمار اسی یقین اور فلسفے کے ساتھ مسلح مزاحمت کا حصہ بنے، انہوں نے اس راستے کو پوری شعوری وابستگی کے ساتھ اپنایا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ محکوم قوموں کے لیے آزادی کی منزل تک پہنچنے کا راستہ طویل مزاحمت، استقامت اور قربانیوں سے ہو کر گزرتا ہے۔

ہکل میڈیا نے انکے حوالے کہا ہے آپریشن ہیروف فیز دو کے دوران نوشکی کے محاذ پر ہونے والے معرکے میں لڑتے ہوئے مشمار نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، مگر ان کی قربانی محض ایک فرد کی قربانی نہیں رہی بلکہ اس جدوجہد کا حصہ بن گئی جو ایک قوم کو غلامی سے نجات دلانے کے لیے جاری ہے۔ 

انہوں نے کہا ایسے کردار یہ ثابت کرتے ہیں کہ جب ایک قوم کے جوان اپنی جانوں کی قیمت پر بھی آزادی کا خواب زندہ رکھتے ہیں تو تاریخ کا دھارا بالآخر آزادی کی طرف ہی مڑتا ہے۔

ہکل میڈیا نے ایک اور سرمچار کے حوالے کہا ہے افضل بلوچ عرف آفتاب ولد عبدالرحیم کا تعلق بلوچستان کے علاقے نلی، مشکے سے تھا، سال 2025 میں بی ایل اے میں شمولیت کے بعد انہوں نے شور پارود کے محاذ پر اپنی خدمات سرانجام دیں، افضل بلوچ کو 2023 میں قابض پاکستان کے خفیہ اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا اور ایک سال بعد انہیں رہا کیا گیا۔ 

دشمن کے ٹارچر سیل سے رہائی کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کے راستے کا ازسرِنو تعین کیا اس تجربے نے انہیں فکری طور پر مزید باشعور بنا دیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ قومی مسئلے کا حل مسلح مزاحمت میں پنہاں ہے۔ 

انہوں نے کہا دشمن کے ٹارچر سیلوں میں اذیت ناک تشدد اور موت کو قبول کرنے کے بجائے انہوں نے پہاڑوں کا رخ کیا تاکہ دشمن کی طاقت کا مقابلہ طاقت سے کر کے اسے شکست دی جا سکے، اسی شعوری فیصلے کے تحت انہوں نے 2025 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور اپنی صلاحیتوں کو قومی آزادی کی جدوجہد کے ساتھ وابستہ کردیا۔

ہکل میڈیا نے مزید کہا آفتاب کو اس کی جنگی صلاحیت اور قابلیت کے بنیاد پر تنظیم کے ہر اول دستے “فتح اسکواڈ” کے لیے منتخب کیا گیا، آپریشن ہیروف فیز دو کے دوران نوشکی کے محاذ پر آفتاب اپنے ساتھیوں کے ساتھ معرکے میں شریک رہے اور اسی جدوجہد کے دوران انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔