بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فورسز نے دس افراد حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا

1

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے دس افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ افراد کوئٹہ، قلات اور کیچ سے حراست میں لیے گئے۔

لاپتہ ہونے والوں کی شناخت درج ذیل ہے: شعیب احمد ولد محمد بخش قمبرانی (سکنہ کوئٹہ)، صدام ولد عبدالہد (سکنہ قلات)، زبیر ولد خلیل احمد (سکنہ قلات)، جواد ولد عبدالرشید (سکنہ قلات)، عبدالرحیم ولد برکت علی (سکنہ مینار بلیدہ)، آصف ولد چیئرمین اسلام (سکنہ مینار بلیدہ)، یاسر ولد بلوچ (سکنہ مینار بلیدہ)، علی احمد ولد الطاف (سکنہ مینار بلیدہ)، رحیم بخش ولد کریم بخش (سکنہ مینار بلیدہ) اور سفر خان ولد محمد علی (سکنہ کوئٹہ)۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ان افراد کو مختلف اوقات میں گھروں یا قریبی علاقوں سے حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں ان کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ گزشتہ دو دہائیوں سے ایک اہم انسانی حقوق کا مسئلہ رہا ہے۔ قوم پرست تنظیمیں اور انسانی حقوق کے کارکنان الزام عائد کرتے ہیں کہ پاکستانی فورسز لوگوں کو حراست میں لے کر طویل عرصے تک منظرِ عام پر نہیں لاتی۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں متعدد بار بلوچستان میں جبری گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔