بلوچستان میں حملوں کا سلسلہ جاری، ریلوے ٹریکس، گیس پائپ لائن تباہ، فورسز پر حملے

78

بلوچستان میں متعدد حملے رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں مسلح افراد کی جانب سے شاہراہوں پر کنٹرول حاصل کرنے، چوکیوں پر قبضے اور ریلوے و گیس پائپ لائن کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

بلوچستان کے ضلع سبی کے علاقے کٹ منڈائی میں مسلح افراد نے دو گھنٹوں سے زائد عرصے تک مرکزی شاہراہ پر کنٹرول حاصل کیے رکھا۔ اس دوران گزرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی گئی۔

دوسری جانب ضلع مستونگ کے علاقے کانک میں مسلح افراد نے ایک پولیس چوکی پر قبضہ کر لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے وہاں موجود اہلکاروں کو تحویل میں لے کر ان کا اسلحہ ضبط کیا اور ایک سرکاری گاڑی کو آگ لگا دی۔ اس واقعے میں بھی کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

ادھر ضلع نوشکی کے علاقے بٹو لانڈی میں ریلوے ٹریک کو تین مختلف مقامات پر دھماکوں سے نقصان پہنچایا گیا۔

اسی طرح کوئٹہ کے قریب تیرہ میل کے مقام پر بھی دھماکوں کے باعث ریلوے ٹریک اور ایک پل کو نقصان پہنچا۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان علاقوں میں تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

دریں اثنا، ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں محمد کالونی کے قریب گیس پائپ لائن کو بھی بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا۔

بلوچستان میں حملوں کا آغاز گزشتہ شب پنجگور سے ہوا اور اس کے بعد آج بلوچستان کے مختلف علاقوں میں یکے بعد دیگرے واقعات پیش آئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق پنجگور میں گزشتہ رات نامعلوم مسلح افراد نے اُن افراد کو نشانہ بنایا جنہیں عوامی حلقے حکومتی حمایت یافتہ گروہوں سے جوڑا جاتا ہے۔ ان حملوں کے بعد آج سبی، مستونگ، نوشکی، کوئٹہ اور ڈیرہ بگٹی سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ یہ واقعات ممکنہ طور پر ایک منظم سلسلے کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

تاہم حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ ناہی ان تمام واقعات کی ذمہ داری تاحال کسی کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔