بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حالیہ واقعات میں ایک لیکچرار، ایک بلوچ گلوکار اور ایک شہری کے قتل جبکہ ایک شخص کے شدید زخمی ہونے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
بی وائی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جامعہ بلوچستان کے سب کیمپس خاران کے لیکچرار دلاور خان کو 4 مارچ 2026 کی صبح خاران میں سب کیمپس کے سامنے فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ دلاور خان ولد لال بخش تربت کے علاقے نودز کے رہائشی تھے اور بطور لیکچرار خدمات انجام دے رہے تھے۔ حملے کے دوران ان کے ساتھی بلال احمد ولد غلام جان، جو پنجگور کے رہائشی ہیں، شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں ابتدائی طور پر شیخ زید ہسپتال خاران منتقل کیا گیا، جہاں سے حالت تشویشناک ہونے کے باعث مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔
بیان کے مطابق یہ حملہ ریاستی سرپرستی میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈ کے افراد نے کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ضلع آواران کے علاقے مشکے کے رہائشی فتح بلوچ ولد شہداد کو 13 جنوری 2026 کو پاکستانی فوج نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ انہیں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مشکے کے مرکزی فوجی کیمپ کے قریب اپنی گاڑی میں مسافروں کو لے جا رہے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں کیمپ کے اندر منتقل کیا گیا تھا اور بعد ازاں خاندان کو بتایا گیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد فتح بلوچ کی گولیوں سے چھلنی لاش دریائے مشکے سے برآمد ہوئی۔ فتح بلوچ ایک عام شہری اور پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور تھے جو اپنے خاندان کی کفالت کر رہے تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں بلوچ زبان کے گلوکار طالب نذیر کو بھی ان کے گھر میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ طالب نذیر بلیدہ کے علاقے مناز کے رہائشی تھے اور ایک دکاندار ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچ زبان و ثقافت کو اپنے گیتوں کے ذریعے فروغ دیتے تھے۔ بی وائی سی کے مطابق انہیں بھی ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے مسلح گروہوں نے نشانہ بنایا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ بلوچستان میں اساتذہ، فنکاروں، طلبہ اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ بیان میں اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں، ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرائیں اور ذمہ دار عناصر کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت جوابدہ بنایا جائے۔



















































