بلوچستان: جبری گمشدگی کی شکار خاتون سمیت مزید 4 افراد بازیاب

1

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے پانچ مزید افراد کی بازیابی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جنہیں مختلف مقامات پر رہا کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ضلع پنجگور کے علاقے عیسی سے تعلق رکھنے والی خاتون فاطمہ بنت محمد جان کو پاکستانی فورسز نے 13 جنوری 2026 کو لاپتہ کیا تھا، جنہیں 16 مارچ 2026 کو حب چوکی کے مقام پر رہا کیا گیا۔

اسی طرح گوادر کے علاقے پانوان جیونی سے تعلق رکھنے والے دو افراد زعیم ولد محمد رحیم اور کمبر ولد امام بلوچ، جنہیں 10 مارچ 2026 کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا، کو 15 مارچ 2026 کو گوادر میں رہا کر دیا گیا۔

مزید برآں مستونگ سے تعلق رکھنے والے سعید احمد ولد محمد اکبر، جو 11 دسمبر 2025 سے لاپتہ تھے، کو 7 مارچ 2026 کو کوئٹہ میں رہا کیا گیا۔

ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ سے تعلق رکھنے والے دلدار ولد حسین، جنہیں 25 اگست 2025 کو پاکستانی فورسز نے لاپتہ کیا تھا، کو 13 مارچ 2026 کو تربت میں بازیاب کیا گیا۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں افراد پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ کیے جاتے ہیں، جبکہ بعض کو طویل عرصے بعد مختلف علاقوں میں رہا کر دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔