شفیق مینگل پر بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان اور مذہبی شدت پسندی میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا ہے۔
بلوچستان کے بدنامِ زمانہ ڈیتھ اسکواڈ اور ’’بلوچستان نفاذِ امن‘‘ کے سربراہ شفیق مینگل نے اسلام آباد میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے دوران پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما علی حسن زہری سمیت دیگر رہنماء بھی موجود تھے، شفیق مینگل آئندہ الیکشن میں وڈھ سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے۔
خیال رہے سیاسی و سماجی حلقوں کے مطابق شفیق مینگل پاکستانی فورسز کے ساتھ ملا کر بلوچستان میں سیکڑوں نوجوانوں کو جبری لاپتہ کرنے، اذیت خانوں میں رکھنے اور 2009 سے شروع ہونے والے مسخ شدہ لاشوں کے سلسلے میں مرکزی کردار رہا ہے۔
شفیق مینگل پیپلز پارٹی کی 2008 کی حکومت کے دوران سامنے آئے اور بلوچستان کے مختلف علاقوں، بالخصوص خضدار میں اغواء برائے تاوان، سماج دشمن سرگرمیوں اور قتل و غارت گری میں ملوث رہے۔
شفیق مینگل بلوچستان میں لشکرِ جھنگوی کے ساتھ مل کر شیعہ برادری کے خلاف حملوں جن میں 2016 میں خضدار کے شاہ نورانی مزار اور 2017 میں سندھ کے سیہون شریف مزار پر ہونے والے خودکش حملے شامل ہیں کے مرکزی کردار سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانی میڈیا اور ریاستی اداروں نے بھی شفیق مینگل پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بلوچستان میں داعش خراسان کو ٹریننگ کیمپس فراہم کرنے سمیت مختلف مذہبی گروہوں کے ساتھ مل کر متعدد شہروں میں خودکش حملہ آوروں کی سہولت کاری میں ملوث رہے ہیں۔
مارچ 2014 میں ضلع خضدار کے علاقے توتک سے متعدد اجتماعی قبریں برآمد ہوئی تھیں جن میں تین سو سے زائد لاپتہ بلوچ نوجوانوں کی لاشیں ملی تھیں یہ علاقہ فوجی آپریشن کے بعد طویل عرصہ شفیق مینگل کے زیرِ اثر رہا۔
شفیق مینگل کے بھائی عطاالرحمان مینگل کو بھی اُن کے جرائم میں شریک قرار دیا جاتا ہے، جنہیں گزشتہ سال بلوچ لبریشن آرمی نے ایک حملے میں ہلاک کردیا تھا، شفیق مینگل کے متعدد ساتھی اور رشتہ دار بھی مختلف کارروائیوں میں بلوچ آزادی پسندوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔
شفیق مینگل پر 2013 میں بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ نے پہلا خودکش حملہ کیا تھا جس میں بیس سے زائد ڈیتھ اسکواڈ ارکان مارے گئے، تاہم شفیق مینگل اس حملے میں محفوظ رہے۔



















































