بارہ سال کی خاموشی: اسد بلوچ کی گمشدگی کا نہ ختم ہونے والا انتظار
تحریر: معراج بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچستان ایک ایسی سرزمین ہے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود دہائیوں سے محرومی، دکھ اور ناانصافی کی داستان سناتی آ رہی ہے۔ یہاں کے پہاڑ، وادیاں اور ریگزار صرف حسنِ فطرت کی علامت نہیں بلکہ ان ہزاروں خاندانوں کے آنسوؤں کے بھی گواہ ہیں، جن کے پیارے جبری طور پر لاپتہ کر دیے گئے۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ایک سنگین انسانی المیہ بن چکا ہے۔ ہزاروں نوجوان، طالب علم، اساتذہ اور عام شہری اچانک اپنے گھروں، تعلیمی اداروں یا سڑکوں سے اٹھا لیے جاتے ہیں اور پھر برسوں تک ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ ان کے خاندان عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، مگر انصاف آج بھی ایک خواب بنا ہوا ہے۔
ان ہی لاپتہ افراد میں ایک نام اسد بلوچ کا بھی ہے؛ ایک ذہین طالب علم، ایک بیٹا، ایک بھائی، اور ایک خاندان کی امید۔
اسد بلوچ، ضلع کیچ کے علاقے تمپ (دازن) کے رہائشی تھے۔ 17 مارچ 2014 کو وہ کراچی سے کوئٹہ کام کے سلسلے میں گئے۔ 18 مارچ 2014 کو وہ اپنی کزن کے ہمراہ کوئٹہ کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں سی جی ایس کالونی گئے۔ شام تقریباً چار بجے جب وہ رکشہ لینے کے لیے کھڑے تھے، تو اچانک پانچ گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ وہاں آ پہنچا۔ ان گاڑیوں میں موجود اہلکار، کچھ وردی میں اور کچھ سادہ لباس میں، اسد بلوچ کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ وہ لمحہ اس کے خاندان کے لیے ایک نہ ختم ہونے والے اندھیرے کی شروعات تھا۔
اگلے دن ایک فون کال کے ذریعے اس واقعے کی اطلاع ملی، اور پھر شروع ہوا ایک ایسا سفر جس میں صرف بے بسی، انتظار اور خاموشی تھی۔ اسد بلوچ کے اہلِ خانہ نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ حکومتی اداروں کو خطوط لکھے گئے، لاپتہ افراد کے کمیشن میں بارہا پیشیاں ہوئیں، سپریم کورٹ کوئٹہ میں درخواستیں دی گئیں، مگر ہر جگہ سے صرف مایوسی ہی ملی۔ نہ کوئی جواب، نہ کوئی سراغ، نہ کوئی امید کی کرن۔
اسد بلوچ ایک ذہین اور محنتی طالب علم تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم تمپ ہائی اسکول سے حاصل کی، پھر عطا شاد ڈگری کالج تربت میں داخلہ لیا، اور بعد ازاں کوئٹہ میں مزید تعلیم جاری رکھی۔ بعد میں وہ کراچی کی اردو یونیورسٹی میں ماسٹرز کے آخری سال کے طالب علم تھے۔ ایک ایسا نوجوان جس کے پاس خواب تھے، مقصد تھا، اور اپنے خاندان کے لیے کچھ کرنے کی خواہش تھی۔
بارہ سال گزر چکے ہیں۔
بارہ سال، جو ایک ماں کے لیے صدیوں کے برابر ہیں۔
اسد کی ماں آج بھی دروازے کی طرف دیکھتی ہے، ہر آہٹ پر چونک جاتی ہے، ہر فون کال پر دل تھم جاتا ہے کہ شاید آج اس کے بیٹے کی کوئی خبر مل جائے۔ وقت بدل گیا، دنیا آگے بڑھ گئی، مگر ایک ماں کا انتظار آج بھی وہیں رکا ہوا ہے جہاں اس کا بیٹا اس سے جدا ہوا تھا۔
جبری گمشدگی صرف ایک فرد کو غائب نہیں کرتی، بلکہ پورے خاندان کی زندگی کو اذیت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ایک ماں کی نیند چھین لیتی ہے، ایک باپ کی امید توڑ دیتی ہے، بہن بھائیوں کی مسکراہٹیں ختم کر دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے اور گہرا ہوتا جاتا ہے۔
آج جب بارہ سال گزر چکے ہیں اور اسد بلوچ جیسے ہزاروں نوجوان اب بھی لاپتہ ہیں، تو یہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ پورے بلوچستان کا اجتماعی درد بن چکا ہے۔ ایسے میں خاموش رہنا اب کوئی حل نہیں۔ یہ خاموشی دراصل اس ظلم کو مزید تقویت دیتی ہے۔ بلوچستان کے باشعور عوام، نوجوانوں اور طلبہ سے اپیل ہے کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں، کیونکہ حق کے لیے بولنا ہی پہلا قدم ہے تبدیلی کی طرف۔
گزشتہ برسوں میں ماہ رنگ بلوچ اور دیگر کارکنان نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر پرامن احتجاج کر کے دنیا کی توجہ اس سنگین انسانی بحران کی طرف مبذول کرائی۔ یہ جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ آواز اٹھانے والے اب بھی موجود ہیں مگر اس آواز کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
ہم انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور ان متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کے لیے عملی اقدامات کریں۔ کیونکہ جب ریاست خاموش ہو جائے، تو انصاف کے لیے آواز اٹھانا ہر باشعور انسان کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
خاموشی اب جرم بن چکی ہے اور سچ کے ساتھ کھڑا ہونا ہی انسانیت کا تقاضا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































