ایرانی اشیا کی بندش: گوادر، کیچ اور پنجگور میں قیمتیں 40 فیصد تک بڑھ گئیں

71

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے اثرات بلوچستان کے کئی علاقوں میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

ایندھن اور خوراک کے لیے ایران پر انحصار کرنے والے علاقوں میں قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ سرحد کی بندش کے باعث ہزاروں خاندانوں کے روزگار کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

مغربی بلوچستاب سے متصل خصوصاً مکران اور رخشان ڈویژن کے علاقوں گوادر، کیچ، پنجگور، چاغی اور واشک میں ایندھن اور کھانے پینے کی اشیا کا بڑا حصہ ایران سے آتا رہا ہے۔

مکران تاجر اتحاد کے صدر اسحاق روشن دشتی کے مطابق سرحدی علاقوں میں خوراک اور ایندھن کا تقریباً 80 فیصد انحصار ایران پر ہے کیونکہ ایرانی سرحد قریب ہے اور وہاں سے آنے والی اشیا پاکستانی مصنوعات کے مقابلے میں کہیں سستی ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے جنگ سے قبل ہی عوامی احتجاج کے بعد کھانے پینے کی اشیا کی برآمد پر 30 فیصد سے زائد ٹیکس عائد کر دیا تھا جس سے قیمتیں بڑھ گئی تھیں، تاہم جنگ کے بعد صورت حال کہیں زیادہ سنگین ہو گئی ہے۔

اسحاق روشن کے مطابق ’جنگ شروع ہونے کے بعد سرحدی تجارت تقریباً معطل ہو گئی ہے جبکہ ایرانی حکومت نے کھانے پینے کی اشیا کی بیرون ملک ترسیل پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔

اس کے نتیجے میں آٹا، گھی، خوردنی تیل، دودھ، دہی، بسکٹ، کیک، مچھلی، ایل پی جی گیس، پیٹرول اور ڈیزل کی ترسیل تقریباً بند ہو گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مارکیٹ میں ان اشیا کی قلت پیدا ہو چکی ہے اور جن تاجروں کے پاس ذخیرہ موجود ہے وہ من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔

ایرانی آٹا پاکستانی آٹے کے مقابلے میں 30 سے 35 روپے فی کلو سستا تھا۔ اس کا 40 کلو کا تھیلہ 3700 روپے سے 3800 روپے میں ملتا تھا مگر اب دستیاب ہی نہیں۔ لوگ پاکستانی آٹا خریدنے پر مجبور ہیں جو پانچ ہزار روپے فی تھیلہ سے کم میں نہیں مل رہا۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورت حال مزید ایک ہفتہ جاری رہی تو سرحدی علاقوں میں خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد اضافہ
کیچ سے ملحقہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں بھی مہنگائی کے اثرات نمایاں ہیں۔ گوادر، جیونی، پسنی اور اورماڑہ میں ایران سے آنے والی کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

ضلع واشک کے سرحدی شہر ماشکیل میں بھی صورت حال کچھ ایسی ہے۔ یہ علاقہ ایران کی سرحد سے صرف 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے تاہم اسے پاکستان کے دیگر علاقوں سے ملانے کے لیے آج تک کوئی پختہ سڑک موجود نہیں۔

مقامی تاجروں کے مطابق اسی جغرافیائی تنہائی کے باعث ماشکیل کا انحصار ہمیشہ ایران پر رہا ہے۔
ماشکیل کے مقامی تاجر خدائے داد نے کے مطابق چار پانچ برس پہلے ایران سے سرحدی کراسنگ پوائنٹ بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے تاجروں کو سینکڑوں کلومیٹر دور تفتان یا پھر پنجگور سے روزمرہ کی ایرانی اشیا لانی پڑتی تھیں، مگر اس کے باوجود وہ پاکستانی اشیا کے مقابلے میں سستی پڑتی تھیں تو لوگ خرید رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اب ایک ہفتے سے اچانک تمام اشیا کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ ایل پی جی گیس کی قیمت تو دگنی ہو گئی ہے اور 600 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ ایرانی ڈیزل اور پٹرول کے علاوہ خوردنی تیل اور گھی کی قیمت میں بھی 60 سے 70 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

ایرانی اشیا کی ترسیل صرف سرحدی علاقوں تک ہی محدود نہیں بلکہ کوئٹہ سے لے کر چمن اور ژوب تک ایرانی اشیا بلوچستان کے باقی علاقوں میں بھی ہوتی تھیں۔ کوئٹہ، پنجگور، کیچ اور گوادر سے ایرانی اشیا بلوچستان سے باہر ملک کے دیگر صوبوں کو بھی سمگل کی جاتی ہیں

گوادر میں جنگ سے پہلے ایرانی تیل کا 210 لیٹر پر مشتمل ایک بیرل 24 سے 25 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا تھا جبکہ عام مارکیٹ میں پیٹرول 110 سے 120 روپے فی لیٹر دستیاب تھا۔
اب پیٹرول کی قیمت 180 سے 200 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے جبکہ پسنی اور اورماڑہ میں یہ قیمت 240 روپے فی لیٹر تک بتائی جا رہی ہے۔ اسی طرح مقامی مارکیٹ میں ایرانی تیل کا فی بیرل بھی بڑھ کر 36 ہزار روپے تک جا پہنچا ہے۔

ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ تیل مہنگا ہونے سے کشتیوں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں جس سے ماہی گیری کا شعبہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ گوادر کی 70 فیصد سے آبادی کے روزگار کا انحصار ماہی گیری پر ہے۔

تربت میں ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ بہروز بلوچ کا کہنا ہے کہ صرف چار پانچ دنوں میں ہی ایرانی تیل کی قیمت 140 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 200 سے 220 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ فی بیرل 27 سے 28 ہزار روپے سے بڑھ کر 40 سے 42 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
کوئٹہ کی ہزارگنجی مارکیٹ میں ایرانی تیل کا کام کرنےوالے نذیر احمد بارکزئی نے بتایا کہ ایک ہفتہ قبل ایرانی پیٹرول 165 سے 170 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا تھا جو اب بڑھ کر 230 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح ایرانی ڈیزل 180 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 235 روپے تک جا پہنچا ہے۔