امریکی میڈیا کے دعووں پر عراقی کردستان کی خاتونِ اول کا ردعمل، ہم کرائے کے سپاہی نہیں

0

سلیمانیہ امریکی میڈیا میں جاری خبروں کے بعد عراقی کردستان کی خاتونِ اول نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کردوں کو عالمی طاقتوں کے تنازعات میں استعمال نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این سمیت دیگر امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے ایران کے خلاف ممکنہ بغاوت کو ہوا دینے کے لیے کرد جنگجوؤں کو اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ 

رپورٹس کے مطابق واشنگٹن ایرانی کرد گروہوں اور عراقی کرد قیادت سے رابطوں میں ہے تاکہ ایران کے مغربی علاقوں میں ایک نیا محاذ کھولا جا سکے۔  

ان خبروں کے بعد عراقی کردستان کی خاتونِ اول شاناز ابراہیم احمد نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کرد عوام کو ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے 1991 کی کرد بغاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کردوں کو صدام حسین کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ترغیب دی گئی، مگر بعد میں انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا اور عراقی فوج نے ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں کے ذریعے بغاوت کو کچل دیا۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ یادیں آج بھی کرد عوام کے ذہنوں میں تازہ ہیں اور اسی واقعے کو کرد تاریخ میں “راپارین” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

خاتونِ اول نے شام کے کرد علاقوں، خصوصاً روجا وا کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ داعش کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر لڑنے کے باوجود کردوں کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ عراق کے کرد آج بڑی جدوجہد کے بعد ایک حد تک استحکام اور باوقار زندگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، اس لیے اب ان کے لیے یہ قبول کرنا ممکن نہیں کہ انہیں عالمی طاقتوں کے ہاتھوں “مہرے” کے طور پر استعمال کیا جائے۔

اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے تمام فریقوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کردوں کو تنہا چھوڑ دیا جائے ہم کرائے کے سپاہی نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے پس منظر میں ایران کے خلاف ممکنہ علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور بعض رپورٹس کے مطابق ایرانی کرد مسلح گروہ بھی اس صورتحال میں متحرک ہو سکتے ہیں، تاہم عراقی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اس کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

کرد ایکٹویسٹ و میڈیا نے بھی ایرانی و اسرائیلی میڈیا کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک امریکہ و اتحادی انھیں کسی قسم کے معاہدے پر دستخط نہیں کرتے کرد کسی بھی عمل کا حصہ نہیں بنے گے۔

یاد رہے کہ شام میں بھی داعش خلاف کے امریکہ نے کرد فورسز کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں امریکہ نے ٹرمپ حکومت کے پہلے دور کے دوران کرد فورسز سے حمایت واپس لے لی تھی جس کے بعد ترکی نے کردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کردیا تھا۔

کرد تحریک بڑے تعداد میں سیاسی طور پر ایران میں متحرک ہیں اور اور اعلان کیا ہے کہ وہ بدلتے صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور حالات کے مطابق فیصلہ کرینگے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال کردوں کی متحرک اور سب سے بڑی گروہ پی کے کے نے ترکی کے خلاف مسلح بغاوت ترک کرنے کا اعلان کیا تھا ، یے فیصلہ تحریک کے بانی عبداللہ اجلان کے فیصلے کے بعد سامنے آیا تھا۔

کرد فورسز کی جانب سے عراق سمیت شام کے مختلف کرد اکثریت علاقوں میں کنٹرول برقرار ہے۔