امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مثبت اور تعمیری مذاکرات کے بعد ایرانی توانائی کے مراکز پر مجوزہ فوجی حملوں کو عارضی طور پر مؤخر کردیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تفصیلی اور بامقصد بات چیت ہوئی، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے مکمل خاتمے پر غور کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان مذاکرات کے تسلسل کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ دفاع کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر تمام ممکنہ حملے پانچ روز کے لیے روک دیے جائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ جاری مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہے، جبکہ بات چیت آئندہ دنوں میں بھی جاری رہے گی صدر ٹرمپ کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں ممکنہ بڑے فوجی تصادم کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے، امریکہ کی جانب سے ایران کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تیاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جس کے باعث خطہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔
تازہ پیش رفت کے بعد اگرچہ فوری طور پر فوجی کارروائی کا خطرہ کم ہوا ہے، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام مکمل جنگ بندی نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے، جس کا مقصد سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن نہایت اہم ہوں گے اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، بصورت دیگر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا



















































