کراچی: جبری لاپتہ نوجوان عاصم اصغر کی جعلی گرفتاری ظاہر

51

کراچی کے بلوچ اکثریتی علاقے ملیر سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے نوجوان عاصم اصغر کی گرفتاری کو سی ٹی ڈی کی جانب سے ایک متنازع اور جعلی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق عاصم اصغر کو 16 مارچ کو ملیر کے علاقے شرافی گوٹھ میں ایک فٹبال میچ کے دوران دو سو سے زائد تماشائیوں کی موجودگی میں پاکستانی فورسز اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئے تھے اور ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی تھیں۔

تاہم آج 29 مارچ کو محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ایک مبینہ چھاپے کے دوران عاصم اصغر کی گرفتاری ظاہر کرتے ہوئے انہیں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا کارکن قرار دیا ہے۔

مقامی ذرائع اور اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عاصم اصغر پہلے ہی 16 مارچ سے ریاستی تحویل میں تھے، اس لیے ان کی گرفتاری کو ایک نیا واقعہ ظاہر کرنا حقائق کے منافی ہے ۔

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جہاں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کو بعد ازاں مختلف مقدمات میں ظاہر کر کے ان پر الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

اہل خانہ نے عاصم اصغر کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں عدالت میں پیش کیا جائے اور جبری گمشدگی کے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔