پاکستانی فورسز کے ناروا رویے کے خلاف بلوچستان میں ٹرانسپورٹ یونین کا احتجاج بدستور جاری

26

سندھ بلوچستان ٹرانسپورٹ بس کوچ یونین نے پاکستانی فورسز، ایف سی اور کوسٹ گارڈ کے مبینہ ناروا رویے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے، جس کے باعث مکران ڈویژن سے کراچی جانے والی کوچ سروس معطل ہو گئی ہے۔

ٹرانسپورٹرز کے مطابق تربت، گوادر اور پنجگور سے کراچی جانے والی تقریباً 100 بسوں کو حب اور وندر کے درمیان ناکہ کارڑی کے قریب ٹول پلازہ پر روک کر احتجاجی دھرنا دیا جا رہا ہے۔

احتجاج کے باعث دونوں اطراف ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے۔

یونین کا مؤقف ہے کہ ایف سی اور کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں کے ناروا رویے کے خلاف یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

تاہم اس حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ہڑتال کے نتیجے میں ہزاروں مسافر، جن میں مریض اور طلبہ بھی شامل ہیں، دونوں اطراف پھنس گئے ہیں اور انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

عوامی حلقوں نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بامعنی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کیا جائے