بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ونگ ہکل نے آپریشن ’ہیروف فیز ٹو‘ میں شامل دو مزید ارکان کی تصاویر اور تفصیلات شائع کر دی ہیں۔
میڈیا ونگ کے مطابق فدائی مریم بزدار، عرف سمی ولد دین محمد بزدار، سکنہ آلہ آباد کالونی، ڈیرہ غازی خان نے 3 مارچ 2023 مجید بریگیڈ میں شمولیت کی ۔
تنظیم کے مطابق فدائی مریم بزدار نے بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت کسی وقتی جذبے کے تحت نہیں بلکہ واضح شعور، ذمہ داری کے احساس اور فکری وابستگی کے ساتھ اختیار کی۔ 2023 میں مجید بریگیڈ کا حصہ بننا ان کے لیئے ایک باقاعدہ، سنجیدہ اور فیصلہ کن مرحلہ تھا، جس میں ذاتی زندگی اور ذاتی تحفظ کو پیچھے رکھ کر عملی جدوجہد کا انتخاب کیا گیا۔
ہکل میڈیا میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کے شوہر رشید بزدار عرف میرل بھی فدائی تھے۔ مریم اور رشید دونوں کی خواہش تھی کہ وہ ایک ساتھ فدائی مشن انجام دیں، مگر حالات اور فاصلے کے باعث ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ رشید بزدار نے اس سے قبل ایک فدائی مشن میں حصہ لیا اور شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ دشمن نے ان کی شہادت کے بعد درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا سر کاٹ کر اپنے ساتھ لے گیا، جو قابض ریاست کی اخلاقی پستی اور بربریت کا کھلا ثبوت ہے۔
“رشید بزدار کی شہادت اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کے باوجود فدائی مریم بزدار کے عزم میں کوئی کمزوری پیدا نہیں ہوئی۔ ان کا راستہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مزاحمت محض ردِعمل نہیں بلکہ ایک باخبر، ذمہ دار اور شعوری عمل ہے۔ ذاتی صدمے، رفاقت کی جدائی اور شدید نقصان کے باوجود ان کا فیصلہ قائم رہا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی وابستگی وقتی نہیں بلکہ فکری، عملی اور ناقابلِ تزلزل ہے۔”
ہکل میڈیا کے مطابق فدائی مریم بزدار نے آپریشن ہیروف 2.0 کے تیسرے دن نوشکی محاذ پر اعلیٰ ترین قربانی دی۔ انہوں نے 2 فروری 2026 کو نوشکی میں پاکستانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹرز کے اندر قریبی جھڑپوں میں لڑائی کے دوران حصہ لیتے ہوئے شہادت حاصل کی۔
جبکہ فدائی زید یاسین زامرانی، کوڈ نام، ابرام، ولد محمد یاسین زامرانی، نوانو، زامران کے رہائشی زید نے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کی اور ایک بڑے خاندان میں پرورش پائی، جہاں وہ بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ 2018 میں وہ تنظیمی نیٹ ورک سے وابستہ ہوئے، یہ انکیلئے ایک ایسا مرحلہ تھا، جس نے ان کے سیاسی شعور اور ذمہ داری کے احساس کو جِلا بخشی۔ ستمبر 2024 میں انہوں نے باقاعدہ طور پر بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور مجید بریگیڈ کا حصہ بنے۔
مزید کہاکہ انہوں نے عزم اور خاموش ثابت قدمی کے ساتھ جنگ لڑی اور پسنی محاذ پر بہادری سے شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ ان کا سفر ایک شعوری انتخاب کی عکاسی کرتا ہے، جسے انہوں نے وقار، استقامت اور اپنے منتخب راستے پر غیر متزلزل یقین کے ساتھ نبھایا۔ جو لوگ انہیں جانتے تھے، وہ ان کی پُرسکون موجودگی، منضبط ذہن اور بغیر کسی نمود کے ذمہ داری اٹھانے کے جذبے کو یاد کرتے ہیں۔














































