بلوچستان حکومت نے کوئٹہ کے ریڈ زون کو محفوظ بنانے کے لیے کنکریٹ کی دیوار تعمیر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
31 جنوری کو بلوچ لبریشن آرمی کے آپریشن ہیروف کے تحت کوئٹہ سمیت 13 شہروں میں مربوط حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں بھاری نقصانات ہوئے۔ ان سیکیورٹی خدشات کے بعد شہر کی متعدد سڑکیں بند اور کئی کو ون وے کر دیا گیا۔
مسلح افراد کے کوئٹہ کے اہم ترین سیکیورٹی علاقے، ریڈ زون، تک پہنچنے اور منظم حملے کرنے کے بعد حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی دیواروں سے شہر میں امن و امان قائم نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے علاوہ پاکستان نے بلوچستان اور ایران و افغانستان سے ملنے والی سرحدوں کی حفاظت کے لیے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے اور ایک خصوصی سیکیورٹی فورس قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ فیصلے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب بلوچ لبریشن آرمی نے بلوچستان کے 13 شہروں میں حملے کر کے عارضی طور پر کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ بعد ازاں کینیڈا کی بڑی مائننگ کمپنی بیریک گولڈ نے بلوچستان میں واقع اربوں ڈالر کے ریکوڈک تانبہ و سونا منصوبے کے تمام پہلوؤں کا فوری طور پر ازسرِنو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔



















































