بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 21 فروری “مادری زبان کے عالمی دن” کے طور پر منایا گیا۔بساک

12

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں 21 فروری کو “مادری زبان کا عالمی دن” منایا جاتا ہے، جس کا اعلان یونیسکو (UNESCO) نے بنگالی قوم کی اپنی زبان کے لیے جدوجہد کے اعتراف میں کیا تھا۔ بساک بلوچستان میں سرگرم ایک طلباء تنظیم ہونے کے ناطے اس عالمی اعلامیے کی پیروی کرتے ہوئے اس دن کو بھرپور طریقے سے مناتی ہے۔ ہم مختلف نشستوں پر مشتمل پروگرام منعقد کرتے ہیں اور اس دن کو تقاریر، ادبی مباحثہ، پینل ڈسکشنز، شاعری اور علمی نشستوں کے ذریعے مناتے ہیں۔

ترجمان نے کہاکہ گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی بساک کی جانب سے 21 فروری کو مادری زبان کا عالمی دن منایا گیا۔ اس سلسلے میں ایک پروگرام شال میں منعقد کیا گیا جس میں ڈیبیٹ، تقاریر، شاعری، مقالہ خوانی اور ڈاکیومنٹری جیسے مختلف نشستیں شامل تھے۔ ایک اور سیشن تربت زون کی جانب سے تربت، کیچ میں منعقد کیا گیا جس میں تقاریر، ٹیبلو، شاعری، مقالہ خوانی اور ڈاکیومینٹری پیش کی گئی۔

مزید برآں، بساک خضدار زون نے “مادری زبان کا عالمی دن” کے عنوان سے ایک ڈیبیٹ جو کہ دو حصوں پر مبنی تھا پہلا اکیس فروری کی تاریخی پس منظر اور مادری زبانوں کی اہمیت اور دوسرا پیمفلٹ مطالعہ تھا، جس میں تنظیم کے چیئرمین عزیر بلوچ نے بطورِ مقرر شرکت کی۔ اسی طرح نصیر آباد زون کی جانب سے نصیر آباد میں ایک اسٹڈی سرکل منعقد ہوا جہاں مرکزی کمیٹی کے اراکین جعفر بلوچ اور علی بلوچ نے بطور مقررین شرکت کی۔
تنظیم کے مرکزی فیصلے کے مطابق بی بساک قلات زون نے اسی موضوع پر اسٹڈی سرکل منعقد کیا، جبکہ تونسہ زون نے بھی اس دن کی مناسبت سے ایک ڈیبیٹ کا اہتمام کیا۔ اسی طرح مادری زبان کے موضوع پر بساک خاران زون اور بساک ڈی جی خان نے بھی نے ادبی سیشن منعقد کیے۔

ترجمان نے کہاکہ بساک کراچی زون نے اس پروگرام کو نئے آنے والے طلباء کے لیے منعقدہ “ویلکم پارٹی” کے ساتھ ضم کر کے منایا، جہاں زبان کے موضوع پر دو مقالے پڑھے گئے اور ایک ڈیبیٹ ہوا جس میں مرکزی انفارمیشن سیکریٹری فہد بلوچ نے بطور مقرر حصہ لیا۔ اسی طرح پنجگور زون نے 21 فروری کو “مادری زبان کے عالمی دن” کے طور پر مناتے ہوئے ایک ڈیبیٹ منعقد کیا گیا۔ علاوہ ازیں، ٹنڈو جام زون نے “مادری زبان کا عالمی دن” کے عنوان سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا جس میں تقاریر، ڈیبیٹ اور شاعری کے مقابلے شامل تھے۔

مزید کہاکہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ لسبیلہ یونیورسٹی اوتھل میں بھی مادری زبان کے عالمی دن پر ایک پروگرام منعقد ہونا تھا، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے پروگرام کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور اسے سبوتاژ کر دیا۔ منتظمین کو صرف یونیسکو کے اعلان کردہ مادری زبانوں کے عالمی دن پر پروگرام اور ڈیبیٹ منعقد کرنے کی پاداش میں معطلی اور داخلہ منسوخی کی دھمکیاں دی گئیں۔ لیکن مختلف مقامات میں تنظیم نے کامیابی کیساتھ پروگرام منعقد کرکے مادری زبان کے عالمی دن کو منایا۔