پاکستان کی دارالحکومت اسلام آباد میں تعلیم کے سلسلے میں مقیم بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم نبیل ارمان کی جبری گمشدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
انکے ساتھی طلبہ کے مطابق نبیل ارمان کو بدھ کی شام اسلام آباد کے سیکٹر G-7 میں اُن کے دوستوں کے ایک دفتر سے نامعلوم افراد حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے، جس کے بعد سے اُن کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
طلبہ نے کہا ہم نبیل ارمان کو جبری گمشدگی کے طویل سلسلے میں ایک اور نمبر بننے نہیں دیں گے، انسانی حقوق کے کارکنوں، ترقی پسند قوتوں، وکلاء، سول سوسائٹی اور طلبہ تنظیموں سے اپیل ہے کہ اس واقعے کے خلاف آواز اٹھائیں۔
طلباء کے مطابق نبیل ارمان نمل یونیورسٹی کے گریجویٹ طالب علم ہیں۔ طلبہ تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا، جس کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔
طلباء نے کہا بلوچستان سمیت ملک بھر میں بلوچ طلباء کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے، پنجاب اور وفاقی دارالحکومت میں تعلیم حاصل کرنے والے متعدد بلوچ طلباء اس سے قبل بھی جبری گمشدگی کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں سے کئی اب تک بازیاب نہیں ہوئے۔
گزشتہ برس سعید بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف قائد اعظم یونیورسٹی میں کئی روز تک احتجاجی دھرنا جاری رہا تھا، تاہم وہ تاحال منظرِ عام پر نہیں آسکے۔
طلباء تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ اگر نبیل ارمان کو فوری طور پر بازیاب نہ کرایا گیا تو وہ بھرپور احتجاجی مہم کا آغاز کریں گے۔



















































