آپریشن ھیروف میں حصے لینے والے تین مزید سرمچاروں کی شناخت بی ایل اے نے ظاہر کردی

1

بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن ہیروف میں حصے لینے والے مزید تین سرمچاروں کی شناخت ظاہر کردی۔

بی ایل اے مطابق ان میں ایک کی شناخت فدائی ظہیر پرکانی عرف مش یار، ابنِ بی بی سعیدہ سکنہ نیام غنڈی، شال کے نام سے ہوئی ہے انہوں مارچ 2024 کو بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی جبکہ وہ ایک سال تک شہری گوریلا رہے اور 2024 کو پہاڑی محاذ پہ منتقل ہوگئے، اپریل 2025 کو مجید بریگیڈ میں شامل ہوگئے۔ جبکہ وہ گشتی کمانڈر بھی تھے۔ 6 دسمبر 2025 کو قلات میں شہید ہوئے۔

بی ایل اے مطابق ظہیر پرکانی کی داستانِ حیات اس جبر کی عکاس ہے جو بلوچ نوجوانوں کو مصلحت پسندی کے بجائے مزاحمت کی راہ دکھاتی ہے۔ شال کے نواحی علاقے نیام غنڈی سے تعلق رکھنے والا یہ حوصلہ مند نوجوان جون 2021 میں ریاست کے عقوبت خانوں کی اذیت جھیل چکا تھا۔ جب سی ٹی ڈی نے انہیں جبری طور پر لاپتہ کیا، تو اس تجربے نے ان کے قومی شعور کو مزید جلا بخشی۔ رہا ہونے کے بعد انہوں نے خاموشی کے بجائے اس نظامِ جبر کو جڑ سے اکھاڑنے کا عہد کیا اور مارچ 2024 میں باقاعدہ مسلح جدوجہد کا حصہ بنے۔

انہوں نے کہا کہ ظہیر پرکانی نے ایک سال تک شہری گوریلا محاذ پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور پھر 2025 میں پہاڑوں کا رخ کیا۔ ان کی فکری پختگی اور بے خوفی کی بدولت انہیں جلد ہی مجید بریگیڈ جیسے اہم یونٹ میں شامل کیا گیا، جہاں وہ بطور گشتی کمانڈر قلات کے محاذ پر متحرک رہے۔ 6 دسمبر 2025 کو جب وہ ‘آپریشن ھیروف’ کی تیاریوں کے ایک اہم مشن پر تھے، قلات کے سنگلاخ پہاڑوں میں دشمن سے سامنا ہوا اور وہ اپنی مٹی کی حرمت پر قربان ہو گئے۔

دوسرے کی شناخت فدائی حفیظ بلوچ ابن حسینہ بی بی عرف احسان، سکنہ شاپتان، پنجگور کے نام سے کی گئی ہے۔

بی ایل اے کے مطابق وہ 2023 کو بی ایل اے میں شامل ہوگئے، جبکہ ستمبر 2024 کو پہاڑی محاذ پہ منتقل ہوگئے، اور نومبر 2024 کو مجید بریگیڈ کا حصے بنے، اور آپریشن ھیروف کے دوران خاران محاذ پہ شہید ہوگئے۔

بی ایل اے کے مطابق فدائی حفیظ بلوچ عرف احسان ان سرمچاروں میں سے تھے جنہوں نے مزاحمت ایک سنجیدہ اور منظم ذمہ داری کے طور پر اپنایا۔ 2023 میں شہری گوریلا کے طور پر بی ایل اے سے منسلک ہوئے اور خاموش، مربوط اور طویل المدت جدوجہد کا حصہ بنے۔ شہری محاذ پر ان کا کردارتنظیمی تسلسل، انٹیلی جنس کی درستگی اور نظم و ضبط پر مبنی تھا۔ وہ ان نوجوانوں میں شامل تھے جو سمجھتے تھے کہ جنگ صرف گولی چلانے کا نام نہیں بلکہ اعصاب، برداشت اور وقت کے درست استعمال کا فن بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ستمبر 2024 میں پہاڑی محاذ پر منتقلی ان کے فکری سفر کا اگلا مرحلہ تھا۔ ناگاہو کے محاذ پر انہوں نے نہ صرف عسکری ذمہ داریاں سنبھالیں بلکہ مشکل حالات میں عملی استقامت کا مظاہرہ کیا۔ نومبر 2024 میں مجید بریگیڈ میں شمولیت ان کے اس فیصلے کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ بلوچ قومی تحریک آزادی کو آخری حد تک لے جانے کیلئے تیار ہیں۔ یہ قدم کسی وقتی جوش کا نتیجہ نہیں بلکہ سوچے سمجھے عزم کا اظہار تھا۔

ترجمان نے کہا کہ آپریشن ہیروف II کے دوران خاران مرکزی فوجی کیمپ کے مرکزی دروازے پر طویل جھڑپوں میں انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دشمن کے مضبوط دفاعی حصار کو توڑ دیا۔ یہ معرکہ محض عسکری تصادم نہیں تھا بلکہ ایک علامتی پیغام بھی تھا کہ بلوچ سرمچار اب دشمن کے مراکز تک رسائی رکھتے ہیں۔ آپ اسی محاذ پر وہ شہید ہوئے۔ ان کی شہادت ایک ایسے نوجوان کا فیصلہ کن اختتام ہے جس نے مزاحمت کو وقتی ردعمل نہیں بلکہ قومی ذمہ داری کے طور پر اختیار کیا تھا۔

تیسرے کی شناخت چیئرمین قادر  کاشانی بلوچ عرف چیئرمین بلوچ خان ولد غلام محمد کاشانی
سکنہ کلی قاسم دالبندین، چاغی کے نام سے کی گئی ہے۔

بی ایل اے کے مطابق وہ ایم اے پولیٹیکل سائنس، یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور تعلیم حاصل کرچکے تھے۔ جبکہ فروری 2024 کو بی ایل اے میں شامل ہوئے،
محاذ: چمالنگ، کاہان، دُکی، شور پارود
شہادت: خاران، فتح اسکواڈ

انہوں نے کہا کہ قادر بلوچ کاشانی کی داستانِ حیات ان تمام مفروضوں کو شکست دیتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ تحریکیں صرف محرومیوں سے جنم لیتی ہیں۔ دالبندین کے ایک متمول اور صاحبِ ثروت گھرانے سے تعلق رکھنے والے قادر کاشانی کے پاس وہ تمام آسائشیں میسر تھیں جن کا ایک عام نوجوان صرف خواب دیکھ سکتا ہے۔ لیکن قادر کے نزدیک زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں بلکہ اپنی قومی شناخت اور بقا کے لیئے لڑنے کا نام تھا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور کی یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی سے پولیٹیکل سائنس میں ڈگری حاصل کرنے والے قادر بلوچ نے کتابوں میں ریاست، طاقت اور حقِ خودارادیت کے جو نظریات پڑھے، انہیں اپنی مٹی کی پکار کے ساتھ جوڑ دیا۔ طلباء سیاست میں ان کی سرگرمی محض ایک مشغلہ نہیں بلکہ اس سیاسی شعور کی آبیاری تھی جس نے انہیں آخر کار فروری 2024 میں عملی جدوجہد کے کٹھن راستے پر گامزن کردیا۔ انہوں نے مخمل کے بستروں کو چھوڑ کر چمالنگ، کاہان اور دُکی کے پتھریلے محاذوں کا انتخاب کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جب نظریہ پختہ ہو جائے تو مال و دولت کی زنجیریں خود بخود ٹوٹ جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تنظیمی صفوں میں چیئرمین بلوچ خان کے نام سے پہچانے جانے والے قادر کاشانی نے شور پارود سے لے کر خاران کے میدانوں تک، اپنی سیاسی بصیرت اور عسکری جرات کا لوہا منوایا۔ وہ ایک ایسے سیاسی کارکن تھے جو جانتے تھے کہ جب قلم کی حرمت چھین لی جائے تو بندوق ہی سب سے معتبر دلیل بن جاتی ہے۔ فتح اسکواڈ کے ایک نڈر سپاہی کے طور پر انہوں نے ہر معرکے میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ ان کی شہادت محض ایک فرد کا بچھڑنا نہیں بلکہ اس فلسفے کی جیت ہے کہ وطن کی آزادی کی قیمت کسی بھی دنیاوی مال و دولت سے کہیں زیادہ مقدم ہے۔