کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

1

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ( وی بی ایم پی ) کے زیر اہتمام قائم دنیا کی طویل ترین اور پرامن احتجاجی کیمپ کوئٹہ کے خون جما دینے والی سردی اور برفباری میں بھی تنظیم کے چیرمین نصراللہ بلوچ کے قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6061ویں روز جاری ہے۔

اس دوران مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، اور اظہار یکجہتی کی، انہوں نے جبری گمشدگیوں، لاپتہ بلوچوں کی ماورائے قانون قتل کے مکمل سدباب اور لاپتہ افراد بالخصوس جبری لاپتہ بلوچ خواتین کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ( وی بی ایم پی ) سمجھتا ہے، کہ جبری گمشدگیاں ملکی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، تنظیم کا طویل اور پرامن احتجاج کا مقصد بھی یہ ہیں، کہ ہم پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کو جبری گمشدگیوں سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں، ہم چاہتے کہ حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہان اب سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔

اور وہ جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ماورائے قانون اقدامات کے مکمل سدباب کو یقینی بنائیں، شہریوں کے ساتھ ملکی قوانین کے تحت رویہ اختیار کریں، تمام جبری لاپتہ افراد کو منظر عام پر لاکر انہیں قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے_ اور جبری گمشدگیوں کے مسئلہ کے حل کے حوالے سے ملکی قوانین کے تحت فوری طور پر عملی اقدامات اٹھا کر اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھائیں۔