مشکے اور آواران میں تین کاروائیوں میں پانچ اہلکار ہلاک کیے۔ بی ایل ایف

198

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو بھیجے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 31 دسمبر کی شام مشکے کے علاقہ میانی قلات میں قائم قابض پاکستان کے فوج کیمپ پر تین اطراف سے حملہ کرکے بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ 

میجر گہرام بلوچ نے کہا ہے کہ سرمچاروں کے حملے کے نتیجے میں دشمن فورسز کو کافی جانی اور مالی نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا اسی روز سہ پہر کے وقت سرمچاروں نے مختلف دستوں کی صورت میں مشکے کے علاقوں خالد آباد، میانی قلات اور بانسر میں گشت کرکے عوام سے خطاب کیا اور عوام کو باور کرایا کہ آزادی کی جدوجہد میں عوام کی حمایت و مدد سے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

ترجمان کے مطابق یکم جنوری کی دوپہر کے وقت آواران کے علاقہ بزداد پمپ کے مقام میں قابض فوجی قافلے کی سیکیورٹی پر مامور دو اہلکاروں کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں کی اسنائپر ٹیم نے حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک ہو گیا جبکہ دو گھنٹے بعد اسی علاقے میں تھوڑی دور کنڈور کے مقام پر سرمچاروں نے گھات لگا کر دشمن فوج کے 6 گاڑیوں پر مشتمل  قافلے کے دو گاڑیوں کو ہدف بنایا۔ 

انہوں نے کہا حملے کے نتیجے میں چار فوجی اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے۔

میجر گہرام بلوچ نے مزید کہا بلوچستان لبریشن فرنٹ مشکے اور آواران میں قابض پاکستانی فوج کے خلاف تین کارروائیوں میں پانچ اہلکاروں کے ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔