کراچی: لاپتہ افراد کے لواحقین شدید بیماری کے باوجود دھرنے پر موجود، لاپتہ پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ

32

کراچی میں جبری گمشدگیوں کے خلاف دھرنا 26ویں روز بھی جاری، لاپتہ نوجوانوں کے اہلخانہ سراپا احتجاج۔

کراچی پریس کلب کے باہر لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ اور عزیز و اقارب سراپا احتجاج ہیں جہاں خواتین، بزرگ اور بچے سخت گرمی کے باوجود اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ان کی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اس موقع پر مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے لاپتہ رشتہ داروں کی واپسی تک احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

کراچی سے جبری لاپتہ بلوچ نوجوان سرفراز بلوچ کی والدہ بی بی گلشن بلوچ بیماری اور ناساز طبیعت کے باوجود احتجاجی کیمپ میں شریک ہوئیں، جہاں کراچی کی سخت گرمی اور اپنی صحت کی خرابی کے باعث وہ بے ہوش ہوگئیں۔

بی بی گلشن بلوچ نے کہا میرا بیٹا بالکل بے قصور ہے اسے کسی جرم کے بغیر گھر سے اٹھایا گیا ہمیں صرف انصاف چاہیے اگر میرا بیٹا واقعی کسی کیس میں ملوث ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ہم بھی جان سکیں بیٹے کی جبری گمشدگی نے ہمارے پورے خاندان کو ذہنی اور معاشی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

طالب علم زاہد بلوچ کے والد حمید بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کو کسی قانونی نوٹس یا عدالتی حکم کے بغیر زبردستی لاپتہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بیٹے پر کوئی الزام ہے تو شواہد کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ قانونی تقاضے پورے ہوں، عدالتوں کو نظر انداز کر کے شہریوں کو غائب کرنا انصاف کا قتل اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔

ماریپور کے علاقے سنگھور پاڑہ سے تعلق رکھنے والے دو سگے بھائی شیراز اور سیلان بلوچ کے اہلخانہ نے بتایا کہ 23 مئی کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ “سی ٹی ڈی” کے اہلکاروں نے گھر پر چھاپہ مارا اور دونوں نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا، تاہم اس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

ان کی والدہ، سبزی بلوچ نے کہا کہ میرے دونوں بیٹے بے گناہ ہیں ان کی گمشدگی نے گھر کو ویران اور زندگی کو اجیرن کردیا ہے نہ صرف ہم ذہنی اذیت کا شکار ہیں بلکہ خاندان شدید معاشی مشکلات سے بھی دوچار ہے۔

احتجاجی کیمپ میں شریک مظاہرین کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیاں متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک سنگین المیہ ہیں اور یہ عمل شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی شہری کو بغیر مقدمے کے غائب کر دینا نہ صرف انصاف کے تقاضوں کو پامال کرنا ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔

مظاہرین نے چیف جسٹس پاکستان، وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ فوری نوٹس لیا جائے اور لاپتہ نوجوانوں کو عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

اہلخانہ نے اعلان کیا کہ ان کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے پیارے بازیاب نہیں ہو جاتے۔