اسلام آباد بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاجی دھرنا اسلام آباد میں مسلسل جاری ہے، جہاں جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن کے موقع پر ایک اہم کانفرنس منعقد کی گئی۔
کانفرنس کا عنوان یاد بطور شناخت، جبری گمشدگیوں کی تاریخ کے ذریعے حال کو سمجھنا” رکھا گیا، جس کا مقصد ریاست کے ہاتھوں جبری لاپتہ افراد کے خاندانوں کی جدوجہد، اُن کے دکھ اور انصاف کے حصول کی طویل جستجو کو اجاگر کرنا تھا۔
کانفرنس میں انسانی حقوق کے سرکردہ کارکنان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں عائشہ مسعود، آمنہ مسعود جنجوعہ، پشتون تحفظ موومنٹ کے مرکزی کونسل رکن فرمان وزیر، طاہرہ عبداللہ اور دیگر شخصیات شامل تھیں۔
شرکاء نے بلوچ لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیا اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
اس کانفرنس سے گفتگو میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماء ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی ہمشیرہ نادیہ بلوچ نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ صرف میری بہن نہیں بلکہ بلوچ قوم کی آواز اور آنے والے صبح کی نوید ہے، ریاست صرف اُسے قید میں نہیں رکھنا چاہتی بلکہ اُس امید کو کچلنے کی کوشش کررہی ہے جو بلوچ عوام کو انصاف اور آزادی کے لیے متحرک کرتی ہے یہ قتلِ عام کو جاری رکھنے کی ایک سازش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مشکل وقت میں بلوچ قوم کو اجتماعی طور پر اپنی آواز بلند کرنی ہوگی، چاہے اسلام آباد آ کر دھرنے کا حصہ بنا جائے یا اپنے شہروں اور گاؤں میں ریلیوں اور احتجاج کے ذریعے بی وائی سی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا جائے۔
خضدار سے تعلق رکھنے والے لاپتہ آصف اور رشید کی بہن جو 47 دنوں سے اسلام آباد میں دھرنے پر موجود ہیں، نے کہا میرے بھائیوں کی جبری گمشدگی کو سات برس مکمل ہونے والے ہیں۔
انہوں نے کہا یہ سات سال صرف وقت نہیں بلکہ ہر لمحہ درد بے بسی اور انتظار سے بھرے ہیں۔ لیکن امید کا چراغ اب بھی ہمارے دلوں میں جل رہا ہے، میں تمام انسان دوستوں سے اپیل کرتی ہوں کہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں، ہمارے بھائیوں کی آواز بنیں کیونکہ اُن کی رہائی کی سب سے بڑی طاقت ہمارا اتحاد ہے۔
اسی طرح بی ایس او آزاد کے جبری لاپتہ رہنماء شبیر بلوچ کی بہن نے کہا جب شبیر کو اغوا کیا گیا تو میرا دکھ صرف شبیر تک محدود تھا، مگر آج بلوچستان کا ہر زخم میرا زخم ہے۔ یہ مائیں، یہ بہنیں اور یہ بھائی میرے ہیں۔ ہم تمام تر مشکلات کے باوجود مزاحمت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
دھرنے میں راشد حسین، جہانزیب محمد حسنی، سلمان بلوچ اور لیویز اہلکار سعید احمد سمیت درجنوں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین شریک ہیں، جو گزشتہ 47 دنوں سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔
دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے عالمی دن کے موقع پر بلوچستان کے مختلف اضلاع میں خاموش احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔
تربت، دالبندین، کراچی اور دیگر شہروں میں متاثرین کے اہلخانہ نے اپنے لاپتہ عزیزوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جدوجہد اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک تمام لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہوجاتے۔