استاد جنرل اسلم بلوچ: وہ عہد جو بلوچ قومی جدوجہد میں ہمیشہ زندہ رہے گا – زگرین بلوچ

131

استاد جنرل اسلم بلوچ: وہ عہد جو بلوچ قومی جدوجہد میں ہمیشہ زندہ رہے گا

تحریر: زگرین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

استاد جنرل اسلم بلوچ سنہ 1975 میں کوئٹہ کے علاقے ٹین ٹاؤن حاجی غیبی روڈ پر رحیم داد دہوار کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسپیشل ہائی اسکول کوئٹہ سے حاصل کی۔ سنہ 1994 میں وہ بلوچستان کی آزادی کی تحریک سے باقاعدہ طور پر جڑے، جب مرحوم سردار خیر بخش مری نے جلاوطنی ختم کرکے کوئٹہ میں قیام کیا اور وہاں حق توار کے نام سے ایک اسٹڈی سرکل کا آغاز کیا۔ استاد اسلم بلوچ ان اسٹڈی سرکلز کا حصہ بنے، جس نے ان کے فکری و نظریاتی سفر میں اہم کردار ادا کیا۔ سنہ 1995 میں استاد اسلم بلوچ نے چند ساتھیوں کے ہمراہ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کی بنیاد رکھنے اور اسے بلوچستان بھر میں منظم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ابتدا میں وہ بلوچ لبریشن آرمی کے سب سے بڑے بیس کیمپ، بولان کیمپ کے کمانڈر مقرر ہوئے اور بعد ازاں تنظیم کے تمام جنگی امور کے نگران بن گئے۔ سنہ 2017 میں انہیں بلوچ لبریشن آرمی کا کمانڈر انچیف نامزد کیا گیا۔ استاد جنرل اسلم بلوچ 25 دسمبر 2018 کو ایک خودکش حملے میں اپنے پانچ ساتھیوں کے ہمراہ شہید ہوگئے۔

فرانز فینن اپنی کتاب The Wretched of the Earth میں بیان کرتے ہیں کہ ایک محکوم قوم کے لیے آزادی کا واحد راستہ مسلح جدوجہد ہے کیونکہ نوآبادیاتی قوتیں پرامن طریقوں سے کبھی اقتدار نہیں چھوڑتیں ہے۔ استاد اسلم بلوچ کی جدوجہد فینن کے نظریے کی عملی تصویر تھی وہ سمجھتے تھے کہ بلوچ قومی غلامی کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب محکوم بلوچ عوام اپنی محکومی کو قبول کرنے کے بجائے اپنی آزادی کے لیے جنگ کو ناگزیر سمجھیں۔ ان کے نزدیک گوریلا جنگ ایک جنگی حکمت عملی سے بڑھ کر ایک مزاحمتی نفسیات تھی جو نہ صرف دشمن کی طاقت کو تحلیل کرتی ہے بلکہ محکوم عوام میں ایک نیا انقلابی شعور بھی بیدار کرتی ہے

چیئرمین ماو زے تنگ نے گوریلا جنگ کے اصولوں کو ایک جدید انقلابی فلسفے میں ڈھالا جس میں عوامی حمایت، غیر روایتی جنگی حکمت عملی اور دشمن کو تھکا کر کمزور کرنے کی حکمت عملی بنیادی نکات تھے۔ استاد اسلم بلوچ نے بھی بلوچ گوریلا جنگ کو انہی اصولوں پر استوار کیا وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ایک چھوٹا مگر منظم گروہ ایک بڑی ریاستی فوج کو شکست دے سکتا ہے بشرطیکہ وہ اپنے جنگی طریقہ کار کو فطری اور ارتقائی انداز میں اپنائے۔ اسی لیے انہوں نے بلوچ لبریشن آرمی (BLA) میں تنظیمی و نظریاتی استحکام کو یقینی بنایا اور جنگی حربوں میں جدت پیدا کی۔

کیوبا کے گوریلا جنگجو چی گویرا کے نزدیک گوریلا جنگ کا سب سے اہم پہلو “عوامی جنگ” تھا یعنی جب تک عوام کسی مزاحمتی تحریک کو اخلاقی، نظریاتی اور عملی حمایت نہیں دیتے وہ کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔ استاد جنرل اسلم بلوچ نے بلوچ گوریلا جنگ کو اسی اصول پر استوار کیا انہوں نے قبائلی بنیادوں پر مبنی روایتی قیادت کے برخلاف تنظیمی قیادت کو جمہوری بنایا اور نوجوانوں کو جنگ میں نظریاتی اور عملی شمولیت کے مواقع فراہم کیے یہی وجہ تھی کہ ان کی شہادت کے بعد قیادت خاندان یا کسی مخصوص قبائلی پس منظر رکھنے والے فرد کے بجائے تعلیم یافتہ انقلابی قیادت کو منتقل ہوئی۔

گوریلا جنگ صرف جنگی مزاحمت کا نام نہیں بلکہ ایک نفسیاتی جنگ بھی ہے جہاں دشمن کے خوف کو اس کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ استاد اسلم بلوچ نے اس جنگی اصول کو بخوبی اپنایا۔ ان کی قیادت میں بلوچ گوریلا جنگ میں ایک نیا ارتقائی مرحلہ آیا جہاں مجید بریگیڈ، اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ (STOS) اور فتح اسکواڈ جیسے یونٹس قائم کیے گئے جو مخصوص اہداف پر غیر روایتی حملے کر کے ریاست کی قوت کو نفسیاتی طور پر مفلوج کرنے میں کامیاب ہوئے۔

بلوچ آزادی کی تحریک میں استاد اسلم بلوچ کا کردار دیگر رہنماؤں سے اس لحاظ سے مختلف تھا کہ وہ نہ تو روایتی سیاسی پس منظر سے آئے تھے اور نہ ہی کسی بڑی قبائلی شخصیت کے وارث تھے۔ وہ صرف اپنی قابلیت، مزاحمتی حکمت عملی اور مسلسل جدوجہد کی بدولت ایک عام سرمچار سے جنرل کے درجے تک پہنچے۔ ان کا یہ سفر چی گویرا کے اس قول کی عملی تصویر تھا کہ “انقلاب کا ہر سپاہی اگر اس میں جرات، قابلیت اور عزم موجود ہو تو وہی سپاہی ایک دن انقلاب کا رہنما بن سکتا ہے۔”

استاد اسلم بلوچ کی جنگ محض جنگی مزاحمت نہ تھی بلکہ ایک فکری جدوجہد بھی تھی جس میں انہوں نے گوریلا جنگ کی روایتی اور جدید حکمت عملیوں کو یکجا کر کے بلوچ آزادی کی تحریک کو ایک منظم اور ناقابل تسخیر تحریک میں تبدیل کیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ “فتح محض ایک ہدف نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جو تب ہی ممکن ہوتا ہے جب تحریک کا ہر سپاہی ایک نظریاتی اور عملی جنگجو بن جائے۔”

استاد جنرل اسلم بلوچ نے اپنے ہر قول و فعل سے یہ ثابت کردیا کہ وہ بابا خیر بخش مری کے شاگرد تھے اور استاد اسلم بلوچ، بابا خیر بخش مری کی طرح اپنی زندگی کے آخری سانس تک صرف اور صرف آزاد بلوچستان کے ہی نظریہ و فلسفے پر قائم رہے اور آزاد بلوچستان کے نظریہ پر کوئی سمجھوتا قبول نہ کیا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ استاد اسلم بلوچ کی شہادت سے بلوچ آزادی تحریک کو ناقابل بیان نقصان ہوا ہے جس طرح سے استاد اسلم بلوچ نے مشکل وقت میں بھی اپنے آزاد بلوچستان کے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا اور تنظیم جس خلفشار کا شکار ہوچکا تھا اسے ایک عظیم لیڈر کی طرح ایک نئے سے سرے سے منظم کرکے یکجا کیا اور بلوچ سرمچاروں کا حوصلہ بن کر انھیں ایک نئی طاقت دی۔

فرانز فینن نے کہا تھا کہ آزادی کے حصول کیلئے ایک غلام قوم کو استعمار کے خلاف جنگ کرنا بےحد ضروری ہے فینن نے جنگ کو غلامی کا خاتمہ قرار دیکر دنیا کے تمام غلام قوموں کو یہ درس دیا کہ تشدد کا جواب تشدد سے ہی دیا جاسکتا ہے اور غلامی کے خاتمے کیلئے جس راہ کا فرانز فینن نے زکر کیا تھا جبکہ بابا خیر بخش مری نے وہ راستہ اپنا کر بلوچوں کو اس کا درس دیا اور استاد جنرل اسلم بلوچ نے وہ عظیم راستہ چن کر اس پر عمل کرکے ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے۔

استاد اسلم بلوچ نے اپنی زندگی کے 25 سال بلوچستان کی آزادی کی جنگ لڑکر بلوچستان کے پہاڑوں میں گزاری، بولان سے لیکر سرلٹھ تک بلوچ وطن کے پہاڑ استاد اسلم بلوچ کی ان لمحوں کی گواہی دیں گے جو استاد اسلم نے ان پہاڑوں میں گزاری ہوں گی۔ چلتن کے پہاڑ سردیوں کی سخت یخ بستہ راتوں کی اور بولان کے پہاڑ اگست کے تپتی دھوپ کی دنوں کی گواہی دیں گی کہ کیسے استاد ان کے سنگت بن کر ان میں رہا اور جس جان فشانی کے ساتھ اپنی زندگی کا ہر لمحہ استحکام اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی سرزمین بلوچستان کیلئے وقف کیا وہ خود تاریخ میں ایک ناقابل تسخیر تاریخ بن گیا۔

استاد کی شہادت کے بعد بھی ان کے نظریات اور حکمت عملی بلوچ آزادی کی تحریک کے لیے ایک مشعلِ راہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کی جنگی حکمت عملی، انقلابی قیادت اور نظریاتی پختگی نے بلوچ گوریلا جنگ کو ایک نیا رخ دیا جس کی بازگشت بلوچستان کے پہاڑوں سے لے کر عالمی مزاحمتی تحریکوں میں سنائی دیتی رہے گی۔ استاد اسلم بلوچ ایک فرد نہیں بلکہ بلوچ قومی تحریک کا ایک ایسا استعارہ ہیں جو ہر دور میں محکوم قوموں کے لیے جدوجہدِ آزادی کا درس دیتے رہیں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔