بھارتی انتخابات: بی جے پی اکثریت سے دور،مودی کا کامیابی کا دعویٰ

92

وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو بھارت کے عام انتخابات میں، ان کی اپنی پارٹی کی جانب سے ناقص کارکردگی کے باوجود، اپنے اتحاد کی جیت کا دعویٰ کیا ہے۔ انہیں اپوزیشن کی جانب سے توقع سے زیادہ مضبوط چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔

مودی نے اپنی پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں جمع ایک مجمع سے کو بتایا کہ ان کا قومی جمہوری اتحاد مسلسل تیسری بار حکومت بنائے گا، انہوں نے کہا کہ بھارتی ووٹروں نے ان کی پارٹی اور حکمران اتحاد، دونوں پر “بہت زیادہ اعتماد” ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کی جیت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی جیت ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب بھارت میں پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں یعنی لوگ سبھا کے لیے ہونے والے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ گزشتہ دو انتخابات کے مقابلے میں اس بار بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت سازی کے لیے ضروری اکثریت سے دور ہے۔ تاہم حکمران اتحاد ’نیشنل ڈیموکریٹک الائنس‘ (این ڈی اے) کو اکثریت ملنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ’انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلیوسیو الائنس‘ (انڈیا) کافی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

گزشتہ دو انتخابات میں اس کی دو سب سے بڑی جماعتوں کانگریس اور سماجوادی پارٹی کی کارکردگی اچھی نہیں تھی۔ لیکن اس بار وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور ان کو ملنے والی نشستوں میں کافی اضافے کی امید ہے۔

لیکن حکومت کس اتحاد کی بنے گی کس کی نہیں؟ فی الحال حتمی طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور ابھی رجحانات کی بنیاد پر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق این ڈی اے کو 295 اور انڈیا کو 235 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ حکومت سازی کے لیے 272 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ 19 اپریل سے یکم جون تک بھارت کی مختلف ریاستوں میں لوک سبھا کی 543 نشتوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے تھے۔

انتخابات میں لگ بھگ ایک ارب لوگ ووٹ ڈالنے کے اہل تھے جن میں سے 66 فی صد سے زیادہ ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔

یکم جون کو ووٹنگ کا ساتواں مرحلہ مکمل ہونے کے بعد مقامی میڈیا میں جو ایگزٹ پولز سامنے آئے تھے، ان میں این ڈی اے کو دو تہائی اکثریت ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ متعدد ایگزٹ پولز میں کہا گیا تھا بی جے پی تنہا 303 سے زیادہ نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔

ایگزٹ پولز میں اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد انڈین نیشنل ڈویلپنگ انکلیوسیو الائنس (انڈیا) کو 60 سے زیادہ نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔

تاہم منگل کو آنے والے ابتدائی جائزوں نے ایگزٹ پولز کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔

واضح رہے کہ ایگزٹ پولز بعض نجی کمپنیوں کی جانب سے ووٹرز کی آرا پر مشتمل جاری کردہ ممکنہ انتخابی نتائج ہوتے ہیں۔ البتہ ماضی میں بھارت میں ایگزٹ پولز کے نتیجے غلط بھی ثابت ہوئے ہیں۔

ووٹوں کی گنتی سے ملنے والے رجحانات کے مطابق بی جے پی کو ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش (یو پی) میں کافی نقصان ہو رہا ہے۔ وہاں سب سے زیادہ 80 نشستیں ہیں۔

سال 2019 کے انتخابات میں بی جے پی کو یو پی سے 62 نشستیں ملی تھیں۔ لیکن اس بار اسے 33 نشستوں کے ملنے کا امکان ہے جب کہ انڈیا اتحاد کو 43 نشستیں مل سکتی ہیں۔