ماہیگیروں کے مسائل و مطالبات ۔ حمید

69

ماہیگیروں کے مسائل و مطالبات

معیب: حمید
دی بلوچستان پوسٹ

گوادر کے رہنے والوں کا ذریعہ معاش
ضلع گوادر کے رہنے والے باشندوں کی اکثریت کا ذریعہ معاش یا روزگار صرف ساحل سمندر پر منجمد ہے کیوں کہ وہاں سرکاری سطح پر کوئی خاص روزگار مہیا نہیں کیا گیا ہے، نوجوان طبقہ لکھے پڑے اور قابل ہیں لیکن سرکاری سطح پر بے روزگار ہیں۔ وہ مجبور ہو کر ساحل سمندر سے محنت و مزدوری کرکے بمشکل اپنے اور اپنے خاندان والوں کا پیٹ پالتے ہیں ۔

ٹرالرز مافیاء

حالیہ چار پانچ دہائیوں میں سندھ کے ٹرالز مافیا نے ساحل مکُران کے مچھلیوں کی نسل کشی کر رہے ہیں اور پاکستان کے آئین و قانون کی خلاف ورزی کر رہیں، لیکن مجال ہیکہ کوئ ان کو روکے۔ اس سے جو ضلع گوادر کے چھوٹے اسپیڈ بوٹ،یکدار والوں کے حق میں کاٹا مار رہے ہیں ، یہ تمام ماہیگیر نان شبینہ کے محتاج بن چکے ہیں۔

احتجاج و بات چیت حکومت کی یقین دھانی

اس حوالے سے ماہیگیر اتحاد اور بہت سے سیاسی کارکنوں نے احتجاج و بات کیا تھا لیکن حکومت نے یقین دہانی بھی کروائی کہ گجہ مافیا کے خلاف کاروائ کیا جائے گا لیکن حکومت کے کیے گئے وعدے اور یقین دہانی اب تک پورے نہ ہو سکے۔ یہ بات پاکستان کے آئین 1973 میں لکھا ہے کہ ٹرالز مافیا 12 نارٹیکل میل سے ٹرالنگ نہیں کر سکتے ہیں اور نایاب مچھلیوں کے نسل کشی قطیًٰ جرم ہے۔ لیکن یہ جو گجہ مافیاز دن دھاڈے دو ، تین نارٹیکل میل میں ٹرالنگ کرتے ہیں اور غریب ماہیگیروں کی قیمتی جھال کو کاٹا جاتے ہیں اور اُن کو نقصان پہنچاتا ہے۔ لیکن کوئ پوچھنے والا نہیں ان کو اس حوالے سے ماہیگیر دھرنے اور احتجاج کرنے میں تھک چکے ہیں۔

حکومتی اقدامات

جبکہ حکومت اس حوالے سے کوئ ٹھوس اقدامات نہیں اُٹھا رہا ہے ۔ پتہ نہیں کیوں؟ ماہیگیروں کی ساری زندگی کی ضروریات اشیاء خورد نوش اور زندگی کے تماتر ساز و مان سمندر کے سہارے سے لے لیتے ہیں لیکن اب سندھ کے گجہ مافیاء نے جو ساحل سمندر پر قبضہ مافیا رچھایا ہے اس جرمناک اقدامات سے ضلع گْوادر اکثریتی آبادی کے زندگی اجیبرن بنا رکھا ہے۔ ماہیگیروں کے بچے بھوک و پیاس سے تڑپ رہے ہیں۔ لیکن ضلع گْوادر کے ماہیگیروں کا اس سنگین مسئلہ و مسائل کو کوئ حکومتی وفد،سیاسی کارکنان پارلیمانی وزراء اس حوالے سے خواب خرگوش ہیں۔ جس طرع زمینداروں کے مسئلہ میں سارے وزراء،سیاسی کارکنوں وفاقی و صوبائ وزراء نے آواز اُٹھائ اُن کی مطالبات سن لیے اور عمل درآمد بھی کیے لیکن ماہیگیر بھی اس قطعے کے باشندے ہیں اُن کے لیے آواز اُٹھانے والے کوئ نہیں ان کی مسئلہ و مسائل کوئ سُنتا تو نہیں۔ سندھ کے ٹرالز مافیاء نے اس خاموشی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بلوچ زر کو یرغمال بنا دیا گیا ہے یہاں کہ مقامی آبادیوں کے کشتیوں کو ٹھکر لگاتے ہیں ان کو کبھی ہراساں کرتے ہیں لیکن انتظامیہ یہ سب چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے پھر بھی کیوں خاموش ہیں ۔ اگر اسی طرع بلوچ زر میں سندھ کے گجہ مافیاء چلتا رہا تو پھر ضلع گوادر کے ماہیگیروں کو ایک سنگیں حالت میں زندگی گزارنے پڑے گا کیونکہ سمندر میں روزگار نہیں ہوگا تو پھر پیسہ کہاں سے آ ئے گا ؟

انتظامیہ پر سوالات

آخر ہم انتظامیہ سے سوال پوچھتے ہیں کہ اس سنگین جرم میں سندھ کے گجہ مافیاء مبتلا ہیں پھر آپ لوگ کیوں ٹھوس اقدامات نہیں اُٹھاتے ہیں؟ کیا انتظامیہ اس سنگین جرم میں خود بھی مبتلا ہیں ؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ضلع گْوادر کے ماہیگیر بھوک و پیاس سے مر جائیں ؟

حکومت سے اپیل و التجا

آخر سے ہم ضلع گْوادر کے اتحاد غریب ماہیگیراں وزیراعلٰی جناب *میر سرفراز بگٹی وزیر داخلہ میر ضیاہ لانگو چیف سیکریٹری بلوچستان وزیر فشریز و صوبائ اسمبلی ضلع گْوادر کے مولانا ہدایت الرحمٰن *جناب سیکریٹری فشریز سے ہم عرض بندان سے گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے ان مسئلہ و مطالبات کو جلدی حل کیے جائیں ٹرالز مافیاء کو ساحل مکُران سے قلع قمع کیا جائے۔ امید ہیکہ آپ لوگ ہمارے مجبوری، درد و تکلیف سمجھ سکتے ہیں ہمارے مسئلے کو جلد از سے جلد حل کیے جائیں ۔ جس طرع سے آپ لوگوں نے زمینداروں کا مسئلہ حل کیے تھا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔