سرمایہ دار میگا پراجیکٹس کے نام پر بلوچ عوام بلخصوص بلوچ محنت کشوں کا استحصال کر رہے ہیں – این ڈی پی

89

بلوچستان میں سرمایہ دار اور محنت کش کے ساتھ حاکم و محکوم کا تضاد بھی موجود ہے – این ڈی پی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے بیان میں کہا کہ مزدور معاشرے کا وہ طبقہ ہے جو محنت کش اور اکثریت میں ہونے کے باوجود  سب سے کم اجرت کماتا ہے اور اپنی زندگی کسمپرسی اور فاقہ کشی میں گزار دیتا ہے۔ بلوچ سماج میں  بھی مزدور  سب سے کم معاوضہ حاصل کرتا ہے حالانکہ پیداواری عمل میں  بلوچستان کے محنت کش مزدور،  کسانوں اور ماہیگیروں کا  حصہ سب سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ داروں ، جاگیرداروں اور  بیوروکریسی پر مشتمل ریاستی حکمرانوں کا روز اول سے کوشش  رہا ہے کہ زیر زمین معدنیات، آبی ذخائر، پہاڑی علاقوں اور دیگر قدرتی وسائل کا بے رحمانہ استحصال جاری رکھ سکے اور  اس لوٹ مار  کے ہوس نے بلوچستان کے جنگلات کو تباہ کر دیا ہے، جبکہ کارخانوں سے نکلتی زہریلی گیس  فضا کو آلودہ کرتے جا رہے ہیں۔ سمندروں، نہروں اور دریاؤں کا پانی آہستہ آہستہ  انسان اور آبی حیات کے لئے  ناقابل استعمال ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس زراعت اور  صنعتوں سے حاصل شدہ پیداوار کی تقسیم غیر منصفانہ ہے،  جہاں بلوچ اور دیگر محکوم اقوام کے کسان، مزدور اور ماہیگیر  کو کچھ نہیں ملتا  اور ساری دولت کارخانہ دار، مائن اونرز اور ماہیگیری والی کشتیوں اور ٹرالروں کا مالک ہڑپ کر جاتے ہیں ۔ اس سارے صورتحال میں ریاست کا کردار ان سرمایہ دار زمینداروں کے لئے سہولت کاری کا بن جاتا ہے۔

ترجمان نے کہ اکہ ہر ملک کی طرح پاکستان کے اندر بھی سرمایہ دار اور محنت کش کے درمیان ایک بنیادی تضاد موجود ہے لیکن بلوچستان میں  اس تضاد کے برابر  ایک اور تضاد حاکم و محکوم  کا بھی ہے۔ پنجاب کی قیادت میں سرمایہ دار حکمران  بد ترین طرز پر سی پیک، سوئی، سیندک، گوادر اور ریکوڈک پراجیکٹس کے نام پر بلوچ عوام بلخصوص بلوچ محنت کشوں کا استحصال کر رہے ہیں، جبکہ بلوچ کے قومی وسائل کی لوٹ مار کا کوئی  حساب اور حد ریاستی حکمرانوں کے پاس موجود نہیں ہے۔ بلوچ قوم اور بالخصوص بلوچ محنت کشوں کو کمزور  اور غیر منظم رکھنے کے لئے بنیاد پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے جہاں انہیں اپنے بنیادی حقوق سے دور رکھنے کےلئے مختلف  پابندیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور  کر دیا ہے بالخصوص بلوچ عورتوں کو بے پناہ پابندیوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس زنگ زدہ نوآبادیاتی  نظام  کو  بلوچ  کا مقدر بنایا گیا ہے اور اس  نا انصافی کے نظام سے نکلنے کے لئے بلوچ قوم بالخصوص  محنت کش طبقے کو ایک عوامی جمہوری سیاسی پارٹی میں منظم  کرنے کے لئے اولین ضرورت ہے۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی ہر محاذ  پر  بلوچ مزدور، کسان، ماہیگیر،طلبا، دانشور اور خواتین کو متحد رکھنے کے لئے طبقاتی اور قومی استحصال کے خلاف موثر آواز اٹھائےگی۔ ریاستی جمہوریت زبانی کلامی ثابت ہو چکی ہے  جو صرف  بلوچ کو دھوکے میں  رکھنے کے لئے  اور بلوچ قوم بالخصوص  محنت کش کے استحصال  کے لئے ایک موثر ذریعہ بن چکا ہے تا کہ بلوچستان میں ہینڈ پیکڈ  اور سلیکٹڈ اقلیتی مفاد پرست طبقے کے زریعے حکومت قائم کر کے پارلیمنٹ کو بے اثر رکھا جائے، لہذا ریاستی  پارلیمانی نظام بھی صرف نوآبادیاتی نظام کو بلوچستان میں مضبوط رکھنے کے لئےاوزار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔