ہم عید اور دیگر تہوار منانے کے بجائے صرف آہیں بھرتے ہیں۔ صدف امیر

223

جبری لاپتہ امیر بخش بلوچ کی بیٹی صدف امیر بلوچ نے کہا ہے کہ عید کے دن والد نماز عید کے بعد گھر آتا ہے تو بیٹیاں اسے گلے لگا کر عید مبارک دیتی ہیں اور باپ اپنی بیٹیوں کی سروں پر ہاتھ رکھ کر شفقت کا اظہار کرتا ہے اور انہیں دعائیں اور عیدی دیتی ہیں لیکن ہم بہن بھائی پچھلے 10 سال اپنے والد کے شفقت کو ترس رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے والد امیر بخش بلوچ کو 4 اگست 2014 کو کلانچ سے جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا اس کے بعد ہم عید اور دیگر تہوار منانے کے بجائے دوسرے بچوں کو خوشیاں مناتے دیکھ کر صرف آہیں بھرتے ہیں کہ کاش ہمارے والد بھی ہمارے پاس ہوتا اور ہم بھی دوسرے بچوں کی طرح خوشیاں مناتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عید کے شام 7 بجے سے رات 12 بجے تک بلوچ وائس فار جسٹس نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ایکس پر مہم چلانے کا اعلان کیا ہے میں تمام انسان دوست افراد سے اپیل کرتی ہوں مہم میں شامل ہوکر میرے والد امیر بخش بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ہماری آواز بنیں۔