بلوچستان: جبری گمشدگیوں کے خلاف عید کے روز عوام سڑکوں پر، لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ

93

بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی و عید کے روز لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کے لئے ہزاروں شہری سڑکوں پر سراپا احتجاج بن گئے –

بلوچ یکجہتی کمیٹی اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی کال پر عیدالفطر کے روز بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا گیا ، مظاہرین نے اس موقع پر مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی اور جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا-

عید کے روز ہونے والے مظاہرے بلوچستان کے مختلف شہروں کوئٹہ، خضدار، تربت، حب چوکی، مستونگ، قلات، پنجگور، گوادر، کوہلو، آواران، دالبندین، منگچر، بھاگ، نال، سبی، نصیر آباد، بارکھان، خاران سمیت اسلام آباد اور کراچی میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

بلوچستان میں ہونے والے ان مظاہروں میں ہزاروں کی تعداد میں مرد، خواتین شہری شریک ہوئے-

واضح رہے کہ بلوچستان میں ہر سال عید کے روز بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے شہری ان مظاہروں میں شریک ہوکر احتجاجی مظاہرے منعقد کرکے ریلیوں کو انعقاد کرتے ہیں جبکہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کے اداروں اور اقوام عالم کو اس انسانیت سوز واقعات پر تحقیقاتی کا مطالبہ کرتے ہیں-

آج ہونے والے احتجاجوں جبری لاپتہ بلوچوں کے لواحقین نے انکے عید کے کپڑے اور جوتے بھی لائے ہوئے تھیں، جبری لاپتہ افراد کے لواحقین اور فریاد سن کر مظاہروں میں شہریوں کی آنکھیں بھی اشک بار ہوگئے-

مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں جو ریاستی مظالم کا بازار گرم ہے اگر ریاست بلوچ کو ایک دشمن سمجھتا ہے تو برابری کی بنیاد پر سامنے آئے غیرسیاسی اور عام لوگوں کو اُٹھا کر صرف انکے لواحقین اور بوڑھے والدین کو ازیت دیکر ریاست بلوچوں کے زہن اور دلوں میں اپنے لئے مزید نفرت پئیدا کررہا ہے اس سے مسئلے کا حل نہیں ہوگا-

مظاہرین کا کہنا تھا کہ دنیا اور مسلم امہ آج خوشی خوشی عید منا رہے ہیں دوسری جانب وہیں بلوچستان کے باسی اپنے پیاروں کی جبری گمشدگیوں کے خلاف سراپاں احتجاج ہیں-

مظاہرین کا مزید کہنا تھا آج ریاست نے جو بلوچوں پر مظالم ڈھائے ہیں ان مظالم یے کیا کہ ریاست کے خلاف بلوچوں کو متحد کیا آج صرف بلوچستان کا ایک شہر نہیں صرف چند خاندان نہیں ہر کوئی اس دن سراپا احتجاج ہے اور یہی اتحاد بلوچوں کو اس ریاستی مظالم سے نجات دیگا اور ظلم کے بت کو تھوڑ کر پھاش کردیگا-

وہاں ضلع کیچ کے علاقے شاپک کے مقام پر لاپتہ نعیم ولد رحمت کے لواحقین کی جانب سے سڑک کو ٹریفک کی روانی کے لئے بند کردیا گیا۔

نعیم رحمت کی بازیابی کا مطالبہ کردیا، دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

شاپک ایم-8 روڑ پر دھرنا دینے والے مظاہرین کے مطابق نعیم رحمت کو دو سال قبل تربت شہر سے اغواء کیا گیا تھا جوکہ تاحال لاپتہ ہیں۔ نعیم تربت یونیورسٹی میں ایم اے ایجوکیشن کے طالبعلم ہیں۔

مزید برآں بلوچ سوشل میڈیا ایکٹویسٹس کی جانب سے سوشل میڈیا پر لاپتہ افراد کی تصاویر اور مظاہروں کے ویڈیوز شائع کرکے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے آن لائن کیمپئن چلا رہے ہیں-