سارا ملک جھوٹ پر چل رہا ہے۔ سابق پاکستانی وزیر اعظم

272

پاکستان کے شہر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی سماعت میں استغاثہ
احتساب بیورو (نیب) کے مزید تین گواہان کے بیانات قلمبند کرلیے گئے ہیں۔

جبکہ سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں مقدمے کی سماعت کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب کچھ جھوٹ پر چل رہا ہے، الیکشن جھوٹے ہوئے، اداروں کی ساکھ ختم کر دی گئی۔

کمرۂ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ سیکورٹی تھریٹ کا کہا جا رہا ہے یہ بھی جھوٹ ہے۔ انھوں نے کہا کہ سارا ملک جھوٹ پر چل رہا ہے، ادارے تباہ ہو چکے ہیں اور انتخابات میں پی ٹی آئی کو میدان میں نہیں آنے دیا گیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ووٹر نے پولنگ ڈے پر ان سے بدلہ لیا،لیکن ووٹ کے ذریعے تبدیلی کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ عمران خان نے مزید کہا ہے کہ ’انھوں نے مینڈیٹ چھین کر قوم کی امید ختم کر دی ہے۔‘

کمرۂ عدالت میں موجود جیل کے اہلکار کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ میری ساری پیشگوئیاں سچ ثابت ہوئیں،اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اپریل سنہ 2022 میں سری لنکا میں اقتصادی بحران نے شدت اختیار کر لی تھی اور اس کے زر مبادلہ کے زخائر تقریباً خالی ہو گئے تھے جس کے بعد ملک میں پرتشدد احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

سری لنکن عوام کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی قیمتیں پہنچ سے باہر ہو گئی تھیں۔ جبکہ ملک میں ایندھن کی دستیابی بھی متاثر اور دواؤں کی قلت کی وجہ سے نظامِ صحت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔

مشتعل عوام نے سری لنکا کے حکمران خاندان پکشے کے گھر کو نذر آتش کر دیا تھا جبکہ صدر راجا پکشے خود ملک سے فرار ہو گئے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، وکلا تک سے ملاقاتیں بند کر دی گئی ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارا پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت انتخابات میں دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ بھی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں پھر پیسہ چلنے والا ہے،گذشتہ سینیٹ انتخابات میںیوسف رضا گیلانی کا بیٹا پکڑا گیا،آج تک سزا نہیں ہوئی

دوسری جانب اس مقدمے کی سماعت کے دوران احتساب عدالت کے جج ناصرجاوید رانا نے استغاثہ کے مزید تین گواہان کی شہادت قلمبند کی جس کے بعد عدالت نے مزید سماعت 16 مارچ تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔