اسرائیل غزہ میں قحط کو روکنے کے لیے فوری امداد کو یقینی بنائے – عالمی عدالتِ انصاف

82

عالمی عدالتِ انصاف نے جمعرات کو متفقہ طور پر اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ ایسی تمام ضروری اور موثر کارروائی کرے جس سے محصور علاقے کی فلسطینی آبادی کو بنیادی خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے اور قحط کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔

لیکن غزہ پر حکومت کرنے والے عسکریت پسند گروپ حماس نے کہا کہ انسانی بحران کو روکنے کے لیے جنگ بندی کی ضرورت ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کی طرف سے یہ حکم ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیلی افواج اور فلسطینی جنگجو غزہ کے الشفا ہسپتال کے ارد گرد لڑ رہے تھے، جہاں حماس اور اسلامی جہاد کے مسلح دھڑے کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فوجیوں اور ٹینکوں پر راکٹوں اور مارٹرز سے حملہ کیا۔

آئی سی جے نے کہا، “اسرائیل غزہ میں فوری طور پر درکار بنیادی خدمات اور انسانی امداد کی بلا تاخیر فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اور موثر اقدامات کرے۔”

اس کے ججوں نے کہا کہ ان میں خوراک، پانی، بجلی، ایندھن، رہائش، لباس، حفظان صحت اور صفائی کی ضروریات کے ساتھ ساتھ غزہ بھر میں فلسطینیوں کے لیے طبی سامان اور طبی دیکھ بھال شامل ہے۔

عدالت کے ججوں نے کہا کہ ساحلی انکلیو میں لوگوں کو بدترین ہوتے ہوئے حالات کا سامنا ہے۔ ججوں نے اپنے حکم میں کہا، “عدالت کا مشاہدہ ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو اب قحط کے محض خطرے کا سامنا نہیں ہے بلکہ قحط پڑ رہا ہے۔”

نئے اقدامات کی درخواست جنوبی افریقہ نے اپنے اس مقدمے کے حصے کے طور پر کی تھی جس میں اسرائیل پر غزہ میں ریاست کے زیر قیادت نسل کشی کا الزام لگایا گیا تھا۔

حماس کے سینئر اہل کار باسم نعیم نے کہا کہ اس فیصلے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہے۔ اسرائیل کو ان مصائب کو روکنے کے لیے اپنی فوجی کارروائی ختم کرنے کا حکم دیا جانا چاہیے۔

نعیم نے رائٹرز کو بتایا، “ہم غزہ اور خاص طور پر شمالی غزہ کی پٹی میں اس انسانی المیے کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی نئے مطالبے کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن ہمیں امید ہے کہ غزہ میں ہمارے لوگوں کو درپیش الم ناک صورت حال کے کسی قطعی حل کے لیے، عدالت جنگ بندی کا حکم دے گی۔”

منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فوری جنگ بندی اور تمام یرغمالوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کے مطالبے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ امریکہ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا لیکن قرارداد کو ویٹو نہیں کیا۔

عالمی عدالت کے فیصلے پر اسرائیل کی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ ایئر ڈراپس اور جہازوں کے ذریعے امدادی گروپوں کی غزہ تک رسائی کو وسیع کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

اسرائیلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حماس ہتھیار ڈال کر، غزہ میں زیر حراست تمام یرغمالوں کو آزاد کر کے اور 7 اکتوبر کے حملے میں ملوث افراد کو مقدمے کے لیے تحویل میں دے کر جنگ کا خاتمہ کر سکتا ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے غزہ شہر کے الشفا ہسپتال کمپلیکس پر ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ قبل حملہ کرنے کے بعد اس کے ارد گرد کارروائی جاری رکھی ہے۔ اس نے کہا کہ اس کی فورسز نے آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک، شہریوں، مریضوں، طبی ٹیموں اور طبی آلات کو پہنچنے والے نقصان کو روکتے ہوئے 200 کے قریب مسلح افراد کو ہلاک کیا ہے۔

ایک ٹیلی ویژن بیان میں، اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے کہا کہ اسپتال میں کام کرنے والے فوجیوں نے حماس کے ایک کوارٹر ماسٹر رائد تھابیت کو ہلاک کر دیا جنہیں انہوں نے گروپ کے 10 سینئر ترین ارکان میں سے ایک قرار دیا۔