یہ ٹھپہ ماری ہے، اسکے پیچھے وردی ہے – نیشنل پارٹی کے مظاہرے میں نعرے

203

پاکستان کے عام انتخابات، انتخابی نتائج میں تبدیلی اور تاخیر کیخلاف بلوچستان میں بھر میں سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے باعث شاہراہیں بند۔

پچھلے 48 گھنٹے سے زائد جاری احتجاج کے باعث مختلف اضلاع میں شاہراہیں بند ہیں ۔

جن کی وجہ سے ہزاروں گاڑیاں راستوں میں پھنس گئیں۔ کوئٹہ تفتان شاہراہ نوشکی سے بلاک ہے، بی این پی کے کارکنوں نے انتخابی نتائج میں ردو بدل کے خلاف روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔

منگچر اور حب کے مقامات پر بھی مرکزی شاہر اہ احتجاج کے باعث بند ہے، کوئٹہ سے پنجاب جانیوالی شاہراہ مختلف مقامات پر بند ہے۔

شدید سردی میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ علاوہ ازیں الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بی این پی کی جانب سے دوسرے روز بھی آر سی ڈی شاہراہ بلاک پی بی 34 پر ری کاﺅنٹنگ کا مطالبہ۔

گزشتہ روز آر او آفس میں پوسٹل بیلٹس کی گنتی سے بی این پی کی جانب سے تمام پولنگ اسٹیشنز کی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا گیا مطالبات پوری نہ ہونے کی وجہ سے اتوار کی شام کو بی این پی کے ضلعی صدر میر بہادر خان مینگل اور پی بی 34 کے امیدوار بابو رحیم مینگل کی سربراہی میں آر سی ڈی شاہراہ کو بلاک کرکے احتجاج شروع کی گئی اور آج دوسرے روز نوشکی اسٹیشن کے مقام پر آج دوسرے روز بھی کوئٹہ تفتان روڈ پر ٹریفک معطل ہیں پہیہ جام ہڑتال کے باعث ٹرانسپوٹرز اور مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہیں۔

تاہم بعض مقامات میں احتجاج ختم کرکے ٹریفک بحال ہوگیا ہے۔

جبکہ تربت شہر میں 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی اور نتائج کی من پسند تبدیلی کے خلاف نیشنل پارٹی کا احتجاج بدستور جاری، پیر کے روز تربت شہر میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی، دکانیں اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہیں۔

سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک کی سربراہی میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ شرکاء نے نعرے بازی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹھپہ ماری ہے، اسکے پیچھے وردی ہے۔

دوسری جانب چارجماعتی اتحاد کیجانب سے 13 فروری بروز منگل بلوچستان بھر میں شٹر ڈاون ہڑتال کی کال دی گی ہے۔

لیکن تربت میں کل شٹرڈاؤن ہڑتال کے بجائے M8 شاہراہِ بند کیجائے گی۔جبکہ دیگر شہروں میں کاروبار بند کی جائیں گے۔