خضدار پریس کلب کے انتظامیہ نے صدر کے کہنے پر دھکے دے کر نکال دیا – بسران بلوچ

128

بسران بلوچ والدہ ثمرینہ نے کہا ہے کہ مجھے خضدار پریس کلب کے انتظامیہ نے پریس کلب کے صدر کے کہنے پر دھکے دے کر پریس کلب سے نکال دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج جب پریس کلب نکالے جانے پر سڑک پر بیٹھ کر بات کرنے کی کوشش کی تو انتظامیہ نے لیویز کو بلا کر ہم پر تشدد کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میری بیٹی خضدار میں قبائلی سردار کے پاس ہے اور مجرم کو مکمل طور پر پولیس اور انتظامیہ کی کمک حاصل ہے۔ ایک قبائلی سردار اور ایک قبائلی میر اور سول انتظامیہ شروع دن سے مجرم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس کے خلاف آج میں پریس کلب پہنچی تو میرے ساتھ یہ سلوک کیا گیا۔

دریں اثنا بلوچ یکجہتی کمیٹی (کراچی) کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ خضدار کے علاقے گریشہ میں غنی ولد الٰہی بخش نامی شخص کی سربراہی میں محکمہ تعلیم میں سینئر ٹیچر یونس ولد محمد حسن نے چودہ سالہ بچی ثمرینہ کو اغوا کرکے نکاح کیا۔ ثمرینہ بسران نامی بیوہ عورت کی بیٹی ہے جن کے والد حمل وفات پاچکے ہیں لیکن حمل وراثت میں بڑی جائیداد چھوڑ گئے ہیں۔ حمل کی وفات بعد رشتہ داروں نے بسران کے زمینوں پر قبضے کی متعدد بار کوشش کی گئی تاہم بسران نے ان کا مقابلہ کیا۔ حمل کے رشتہ دار یونس ولد محمد حسن نے منصوبہ بنایا کہ کسی طرح بسران کی کمسن بیٹی سے نکاح کے نام جائیداد پر قبضہ کیا جائے لیکن بسران نے اپنی بیٹی دینے سے انکار کیا کہ “میں اپنی چودہ سالہ بچی کسی پچاس سالہ شخص کو نہیں دے سکتا۔” کمسن بچی سے رشتے میں ناکامی کے بعد یونس نے غنی ولد الٰہی بخش سکنہ بدرنگ گریشہ کے سربراہی میں بچی کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا۔

ترجمان نے بتایا کہ اسی ہفتے یونس نے بسران کو دھوکہ دیا کہ میں بچی کو پڑھانے لے جاؤں گا لیکن بچی کو وہاں سے غنی ولد الٰہی بخش، عبدالرحیم، اکبر ولد نذر خان کے ساتھ اغوا کرکے تربت لے گئے اور پچاس سالہ یونس نے چودہ سالہ کمسن بچی ثمرینہ سے نکاح کرلی۔ تربت میں انہیں شئے برکت سکنہ زامران نامی شخص کا تعاون حاصل رہا۔ نکاح کے بعد یہ گروہ بچی کو تربت سے کراچی لے گئے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اغواء کاروں کو گریشہ میں سرداروں و ڈیتھ اسکواڈ کی پشت پناہی حاصل ہے اور گریشہ میں موجود تمام لوگ سرداروں کے خلاف کسی قسم کی چوں و چرا کرنے سے کترا رہے ہیں اور سردار نے ثمرینہ کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور اس طرح سے وہ اغواء کاروں کو Safe Side دے رہے ہیں اور مکمل طور پر ان کے حمایت یافتہ لوگ ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پریس کلب میں کئے گئے پریس کانفرنس کی فوٹیج و تصویریں کا اشتہار روکنا و ڈلیٹ کروانا یہ سب انسانی حقوق کی پامالی ہیں جو کہ کسی بھی معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہیں. مندرجہ بالا دیے گئے نام جو کہ اس واقعے میں ملوث مجرم ہیں ان کی پشت پناہی ریاست و اس کے ماتحت ادارے کر رہے ہیں، ان اشخاص کو بلوچستان میں بلوچ نسل کشی کے لئے مخصوص کئے گئے ڈیتھ اسکواڈ کی حمایت حاصل ہے، جس کے پیچھے وہ کسی بھی طرح کا جرم کرنے سے کتراتے نہیں ہیں۔