بولان آپریشن سے عام آبادی محصور ہوکر نان شبینہ کے محتاج بن گئے ہیں۔ این ڈی پی

398

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے بولان میں آٹھ روز سے جاری آپریشن کے حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک ہفتے سے زائد دنوں سے ریاستی آپریشن جاری ہے جس کی زد میں بولان کے مختلف علاقوں سمیت ہرنائی و سبی کے علاقے بھی شامل ہیں، مذکورہ علاقوں میں اکثریتی آبادی گلہ بانی کے پیشے سے منسلک ہیں۔ اسی طرح گذشتہ دنوں بولان سے متصل سبی کے علاقے شابان میں گلہ بانی منسلک افراد سمیت عام آبادی پر دھاوا بول کر لوگوں کے گھروں کو محاصرے میں لیکر خواتین و بچوں کو ان کے گھروں میں بند کر دیا گیا ہے۔ قبل ازیں ڈھاڈر کے نواحی علاقوں میں بھی مختلف جگہوں پر عام آبادی میں گلہ بان، مالئیے اور ان کے رشتہ داروں کے گھروں کو محاصرے میں لیکر خواتین و بچوں کو حراست میں لیاگیا ہے، جو کہ تاحال بازیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ آپریشن کی وجہ سے بیشتر علاقوں کے داخلی و خارجی راستے بند کر دئیے گئے ہیں جس کے باعث ان دور دراز علاقوں کے مکین افراد کو شہروں سے ادویات و دیگر اشیاء ضرورت کی چیزوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ریاست کی جانب سے ہونے والے آپریشنوں میں ہمیشہ عام آبادی شدید متاثر ہو جاتی ہے اور لوگوں کو اپنے گھروں محصور کیا جاتا ہے، اس دوران بہت سے لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ بھی کیا جاتا ہے، عام آبادی کے گھروں کو نذر آتش بھی کیا جاتا ہے، لیکن اس تمام دورانیے میں عالمی اور علاقائی میڈیا کیلوگوں کو رسائی نہیں دیا جاتا، جو کہ عالمی انسانی حقوق، عالمی میڈیا کے اصولوں کے کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ عالمی انسانی حقوق کے اداروں سمیت عالمی میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے معاملات میں ریاست کو مجبور کریں تاکہ ریاست کو ان متاثرہ علاقوں میں رسائی دے کر آزادانہ اور غیر جانبدار طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ کریں۔