بلوچ ثقافتی دن :بلوچستان بھر میں پروگرام منتقد کئے جائینگے- بساک

89

دو مارچ بلوچ ثقافتی دن کے موقع پہ نصیرآباد سمیت پورے بلوچستان میں ادبی اور ثقافتی پروگرام بنام صبا لٹریری فیسٹول منعقد کیے جائیں گے۔

مرکزی ترجمان بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی دو مارچ کے حوالے جاری بیان کے مطابق اس دن دنیا بھر میں بلوچ ثقافتی دن کے حوالے سے منایا جاتا ہے اسی دن کی مناسبت سے نصیرآباد سمیت پورے بلوچستان میں ادبی اور ثقافتی پروگرام بنام صبا لٹریری فیسٹول منعقد کیا جائے گا۔

بیان میں کہا ہے بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی بحیثیت طلبا تنظیم بلوچ سماج میں علمی و ادبی، سیاسی اور ثقافتی ماحول کو پروان چڑھانے کی جدوجہد کرتی آرہی ہے جن کو حالات و واقعات کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے وسعت دینے کی جدوجہد جاری و ساری ہے، آج کے گلوبل دنیا میں محکوم اقوام کو شناختی بحران کا سامنا ہے جس میں بلوچ بھی بحیثیت قوم شامل ہے۔

انہوں نے کہا دنیا بھر کی محکوم اقوام کو ان کے ماضی سے بیگانہ کرنے ان کی زبان کو محدود کرنے سمیت ثقافتی بحران سامراجی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں جن کے لئے دنیا بھر میں سیاسی مزاحمت بھی ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے آج دنیا بھر میں “ اینڈیجینئس موومنٹ” پنپ رہے ہیں جن کا بیانیہ اُس زمین پہ رہنے والے اولین باشندوں کو ان کی شناخت، زبان، وسائل اور تاریخ پہ حق حاصل کرنے کی جدوجہد ہورہی ہے مگر دوسری طرف گلوبل دنیا کا سامراجی نعرہ و عمل ان اقوام کیلئے زہر قاتل بن رہا ہے جدیدیت کے نام پہ محکوم اقوام سے ان کا ثقافتی ورثہ چھینا جارہا ہے اور اسی بیانیے کو نوآبادیاتی زمانے سے لیکر آج تک “ ترقی” کا نام نہادہ لبادہ پہنایا جارہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ایسی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جہاں محکوم اقوام نے اپنی شناخت کی جدوجہد میں ثقافت کی بازیافت کو اپنا بیانیہ بناکر اپنے قوم کو صفحہ ہستی سے ختم ہونے سے بچایا آج بھی افریقہ، ایشیا سے لیکر لاطینی امریکہ حتیٰ کہ یورپ تک یہ سیاسی جدوجہد ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں لوگ ریاستوں سے اپنے شناخت کی مانگ کررہے ہیں جہاں قومی شناخت کا مسلہ قومی ریاستوں کی شکل میں اگر حل ہوا ہے وہاں آج انفرادی شناخت اور ثقافت کی بحالی کی باتیں زبان عام پہ ہیں امریکہ میں بلیک لائیوز میٹر ہو یا مڈل ایسٹ میں عرب، کرد، یمن، اور دیگر اقوام کی شناختی جدوجہد ہو، یا پھر افریقہ میں یورپ مخالف حالیہ تحریکیں، ان تمام تر تحریکوں کا بیانیہ ان کی شناخت کو درپیش مسائل اور ان کو حل کرنے کی جدوجہد ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے کہا بلوچ بحیثیت قوم ایک نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں ایک طرف ریاستی سرپرستی میں بلوچ زبان، تاریخ اور ثقافت کو خطرات درپیش ہیں دوسری طرف گلوبل دنیا کی تیزی سے پھیلتی طوفان کا بھی سامنا کررہی ہے ایسے وقت میں باشعور طبقات پہ لازم ہے کہ وہ آگاہی مہم کے زریعے لوگوں میں ثقافت سے جڑے رہنے کی جدوجہد کی تلقین کریں دوسری جانب تمام سیاسی اور سماجی اداروں کو بھی احساس رکھنا ہوگا کہ بغیر ثقافت کے قومیں جڑیں کھوکھلا ہوجائیں گی۔

انھوں نے مزید کہا بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی ایک طلبا تنظیم کی حیثیت سے نوجوانوں میں زبان اور ثقافت اور قومی بقا کی احساس اور اسکی ترویج کیلیے جدوجہد کررہی ہے۔ اسی جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے تنظیم دو مارچ کو نصیرآباد میں ادبی اور ثقافتی پروگرام کا انعقاد کرنے جارہی ہے تاکہ نصیرآباد اور گردنواح میں نوجوان نسل کو ان کی قومی ورثے کے حوالے سے آگاہی دیا جاسکے کیونکہ اس ریجن میں بلوچ زبان، ثقافت اور جغرافیے پہ نوآبادتی اثرات نے جگہ کررکھی ہے جن کو آج کے حالات کے مناسبت سے زیر بحث لانا لازمی ہے اس پروگرام میں بلوچ زبان، تاریخ ، کلچر، تعلیمی اور سیاسی مسائل پہ بلوچ دانشوران اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔

بیان کے آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی ترجمان کا کہنا تھا دو مارچ بلوچ ثقافتی دن کے موقع پہ نصیرآباد می ایک فیسٹول سمیت پورے بلوچستان میں ادبی اور ثقافتی پروگرام بنام صبا لٹریری فیسٹول منعقد کیا جائے گا۔ ہم نصیرآباد اور بلوچستان بھر کے بلوچ عوام چاہے وہ جس بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو اس پروگرام میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں ہمارے پروگرام اور تنظیمی نظریے اور عمل کا تعلق بلوچ عوام سے ہے جتنا ہمیں عوامی حمایت حاصل ہوگی تنظیم آنے والے وقتوں میں اسی جذبے کے ساتھ اپنے پروگرام کو وسعت دینے کی جدوجہد کو جاری رکھے گی۔